حدیث نمبر: 16670
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَشِفَ الْهَيْئَةِ سَيِّيءَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مَالٌ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا مَالُكَ؟» ، قَالَ: إِبِلٌ وَخَيْلٌ وَرَقِيقٌ، قَالَ: " فَإِذَا آتَاكَ اللهُ مَالًا - أَوْ قَالَ: خَيْرًا - فَلْيُرَ عَلَيْكَ، فَإِنَّ اللهَ إِذَا أَكْرَمَ عَبْدًا أَحَبَّ أَنْ يَرَى كَرَامَتَهُ عَلَيْهِ "
قَالَ: «هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُكَ صِحَاحًا آذَانُهَا؟» ، قَالَ: وَهَلْ تُنْتَجُ الْإِبِلُ لَيْسَتْ لَهَا آذَانٌ؟، قَالَ: «فَتَعْمَدَ إِلَى مُوسَى فَتَقْطَعَ آذَانَهَا وَتَقُولَ هَذِهِ بَحْرٌ وَتَشُقَّ آذَانَهَا وَتَقُولَ هَذِهِ صُرُمٌ وَتُحَرِّمَهَا عَلَيْكَ» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّ كُلَّ مَا آتَاكَ اللهُ حَلَالٌ، وَسَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ»
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي آتِي الرَّجُلَ وَلَا يُقْرِينِي وَلَا يُكْرِمُنِي، أَفَأُجْازِيهِ أَمْ أُقْرِيهِ؟، قَالَ: «بَلْ أَقْرِهِ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خستہ حال اور بری وضع میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اونٹ، گھوڑے اور غلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تمہیں مال — یا فرمایا: بھلائی — عطا فرمائے تو وہ تم پر ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ جب کسی بندے کو عزت بخشتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کی عزت افزائی اس پر دکھائی دے۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے اونٹ صحیح سالم کانوں کے ساتھ جنتے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیا اونٹ بغیر کانوں کے جنتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ بحر ہے، اور کان چیر دیتے ہو اور کہتے ہو یہ صُرُم ہیں، پھر انہیں اپنے آپ پر حرام کر لیتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے وہ سب حلال ہے، اللہ کا بازو تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے، اور اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک آدمی کے پاس جاتا ہوں، نہ وہ میری مہمان نوازی کرتا ہے اور نہ میری عزت کرتا ہے، تو کیا میں اسے اسی کا بدلہ دوں یا اس کی مہمان نوازی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16670
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 282، حدیث 621