المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن نضلة الجشمي باب: سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصَ، عَنْ أَبِيهَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيَّ أَعْرَابِيَّةٌ وَعَلِيَّ لِبَاسُ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ لِي: «أَلَكَ مَالٌ؟» ، قَالَ: قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللهُ، قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللهِ»
فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ يُؤْذِينِي أَفَأَفْعَلُ بِهِ كَمَا يَفْعَلُ بِي؟، قَالَ: «لَا، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»
فَقَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ فِي إِبِلِكَ، تَقْطَعُ آذَانَهَا وَتَقُولُ بَحِيرَةٌ وَسَائِبَةٌ وَوَصِيلَةٌ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُوسَى اللهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ، وَسَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ»سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا، مجھ میں بدوی پن تھا اور میرا لباس بدوؤں کا سا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس کی نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی مجھے تکلیف دیتا ہے، تو کیا میں اس کے ساتھ ویسا ہی کروں جیسا وہ میرے ساتھ کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے اونٹوں کے ساتھ کیا کرتے ہو، ان کے کان کاٹ کر کہتے ہو بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے، اور اللہ کا بازو تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے۔“