حدیث نمبر: 16666
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصَ، عَنْ أَبِيهَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيَّ أَعْرَابِيَّةٌ وَعَلِيَّ لِبَاسُ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ لِي: «أَلَكَ مَالٌ؟» ، قَالَ: قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللهُ، قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللهِ»
فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ يُؤْذِينِي أَفَأَفْعَلُ بِهِ كَمَا يَفْعَلُ بِي؟، قَالَ: «لَا، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»
فَقَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ فِي إِبِلِكَ، تَقْطَعُ آذَانَهَا وَتَقُولُ بَحِيرَةٌ وَسَائِبَةٌ وَوَصِيلَةٌ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُوسَى اللهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ، وَسَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا، مجھ میں بدوی پن تھا اور میرا لباس بدوؤں کا سا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس کی نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی مجھے تکلیف دیتا ہے، تو کیا میں اس کے ساتھ ویسا ہی کروں جیسا وہ میرے ساتھ کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے اونٹوں کے ساتھ کیا کرتے ہو، ان کے کان کاٹ کر کہتے ہو بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے، اور اللہ کا بازو تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16666
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 280، حدیث 617