حدیث نمبر: 16657
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» ، فَقُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِي اللهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «إِذَا آتَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ»
وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا فَتَعْمَدَ إِلَى الْمُوسَى فَتَقْطَعَ آذَانَهَا فَتَقُولَ: هَذِهِ بَحْرٌ، وَتَشُقَّ جُلُودَهَا فَتَقُولَ: هَذِهِ صُرُمٌ، فَتُحَرِّمَهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ حَلٌّ، وَسَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي وَلَمْ يُقْرِنِي فَنَزَلَ بِي، أَجْزِهِ بِمَا صَنَعَ؟، قَالَ: «لَا، بَلْ أَقْرِهِ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسی حالت میں حاضر ہوا کہ میری وضع قطع خستہ تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس قسم کا مال؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا، اونٹ، گھوڑے، غلام اور بکریاں، جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل تمہیں مال عطا فرمائے تو وہ تم پر ظاہر ہونا چاہیے۔“
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری قوم کے اونٹ صحیح سالم کانوں کے ساتھ جنتے ہیں، پھر تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ بحیرہ ہے، اور ان کی کھالیں چاک کر دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ صُرُم ہیں، پھر انہیں اپنے اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کیا ہے وہ سب تمہارے لیے حلال ہے، اور اللہ کا بازو تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے، اور اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا خیال فرماتے ہیں اگر میں کسی آدمی کے ہاں اترا اور اس نے میری عزت نہ کی اور نہ میری مہمان نوازی کی، پھر وہ میرے پاس اترے، تو کیا میں اسے اسی کا بدلہ دوں جو اس نے کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16657
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 277، حدیث 608