حدیث نمبر: 16655
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يَضِفْنِي وَلَمْ يُقْرِنِي، فَمَرَّ بِي فَأُقْرِيهِ؟، قَالَ: «بَلْ أَقْرِهِ»
ترجمہ

سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا، اس نے نہ مجھے مہمان بنایا اور نہ میری مہمان نوازی کی، پھر اس کا گزر میرے پاس سے ہو تو کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16655
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 276، حدیث 606