حدیث نمبر: 16479
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدٍ الْقَرَاطِيسِيُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَكِيبٍ الْكُوفِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ كَرْدَمِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي لِحَاجَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ مَكَّةَ، وَذَلِكَ أَوَّلَ مَا ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَأَتَى بِنَا إِلَى صَاحِبِ غَنَمٍ، فَلَمَّا انْتَصَفَ اللَّيْلُ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ حَمَلًا مِنْ غَنَمِهِ، فَوَثَبَ الرَّاعِي، فَقَالَ: يَا عَامِرُ الْوَادِي جَارُكَ، قَالَ: فَسَمِعْنَا صَوْتًا لَا نَرَى صَاحِبَهُ: يَا سَرْحَانُ أَرْسِلْهُ، قَالَ: فَجَاءَ الْحَمَلُ يَشْتَدُّ مَا بِهِ كَدْمَةٌ حَتَّى دَخَلَ فِي الْغَنَمِ، قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ: {وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ} [الجن: ٦] الْآيَةُ
ترجمہ

سیدنا کردم بن ابی سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ کسی کام کے سلسلے میں مدینہ سے مکہ کی طرف نکلا، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مکہ میں نبی کریم ﷺ کا ابھی ابھی ذکر ہونا شروع ہوا تھا، تو وہ ہمیں ایک بکریوں والے کے پاس لے آئے، آدھی رات کو ایک بھیڑیا آیا اور اس کی بکریوں میں سے ایک بھیڑ کا بچہ اٹھا لے گیا، تو چرواہا اچھل کر کھڑا ہوا اور بولا: اے وادی کے مالک! تیرا پڑوسی۔ تو ہم نے ایک آواز سنی جس کا بولنے والا نظر نہیں آ رہا تھا: اے بھیڑیے! اسے چھوڑ دے۔ چنانچہ بھیڑ کا بچہ دوڑتا ہوا واپس آیا، اس پر کوئی زخم کا نشان تک نہ تھا، یہاں تک کہ بکریوں میں جا ملا۔ کہتے ہیں: اور نبی کریم ﷺ پر، جب آپ ﷺ مدینہ میں تھے، یہ آیت نازل ہوئی: ”اور یہ کہ کچھ انسان کچھ جنوں کی پناہ مانگا کرتے تھے“ [سورۃ الجن: 6] آیت۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16479
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 191، حدیث 430