المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم بن أبي الجعد، عن أبي اليسر باب: سالم بن ابی جعد کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْيَسَرِ الْأَنْصَارِيُّ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ، فَقَالَ: بَعَثَنِي فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُ مُؤْتَةَ، فَلَمَّا صَفَّ الْقَوْمُ رَكِبَ جَعْفَرٌ فَرَسَهُ وَلَبِسَ الدِّرْعَ وَأَخَذَ اللِّوَاءَ وَمَشَى حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ، ثُمَّ نَادَى: مَنْ يُبَلِّغُ هَذِهِ صَاحِبَهَا؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَبَعَثَ بِهَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَضَرَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ، فَتَحَدَّرَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُمُوعًا، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعَصْرُ فَخَرَجَ فَصَلَّى، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا، فَفَعَلَ كَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَدَخَلَ وَلَا يُكَلِّمُنَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الْفَجْرِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ يَخْرُجُ فِيهَا، وَأَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ جُلُوسٌ فَجَلَسَ بَيْنَنَا وَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا؟ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ جَعْفَرًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ، وَزَيْدٌ مُقَابِلَهُ، وَابْنُ رَوَاحَةَ مَعَهُمْ كَأَنَّهُ يُعْرِضُ عَنْهُمْ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ جَعْفَرًا حِينَ تَقَدَّمَ فَرَأَى الْقَتْلَ لَمْ يَصْرِفْ وَجْهَهُ، وَزَيْدٌ كَذَلِكَ، وَابْنُ رَوَاحَةَ صَرَفَ وَجْهَهُ»سیدنا ابو الیسر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ابوعامر اشعری آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ ﷺ نے مجھے فلاں فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، پھر میں موتہ پہنچا، جب لوگوں نے صفیں باندھ لیں تو جعفر اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، زرہ پہنی، جھنڈا تھاما اور چلتے چلتے دشمن کے سامنے جا پہنچے، پھر پکارا: کون ہے جو یہ (چیز) اس کے مالک تک پہنچا دے؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں۔ تو انہوں نے وہ اس کے ہاتھ بھیج دی، پھر آگے بڑھے اور اپنی تلوار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اندر تشریف لے گئے اور ہم سے کوئی بات نہ کی، پھر عصر کی اقامت ہوئی تو آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی، پھر اندر چلے گئے اور ہم سے بات نہ کی، مغرب اور عشاء میں بھی ایسا ہی کیا کہ اندر چلے جاتے اور ہم سے بات نہ کرتے، حالانکہ آپ ﷺ جب نماز پڑھاتے تو ہماری طرف اپنا چہرہ متوجہ کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ فجر کے وقت اس گھڑی ہمارے پاس تشریف لائے جس میں معمول کے مطابق نکلا کرتے تھے، اور میں اور ابوعامر اشعری بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ خواب نہ بتاؤں جو میں نے دیکھا؟ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جعفر کو دیکھا، ان کے دو پر تھے جو خون میں لتھڑے ہوئے تھے، اور زید ان کے سامنے تھے، اور ابن رواحہ ان کے ساتھ تھے مگر گویا وہ ان سے منہ پھیر رہے تھے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاؤں گا: جعفر جب آگے بڑھے اور موت کو دیکھا تو اپنا چہرہ نہ پھیرا، اور زید نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن ابن رواحہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا۔“