❮
❯
حدیث نمبر: 16428
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالُوا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أبِي حَزْرَةَ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيَنَا أَبُو الْيَسَرِ السُّلَمِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَضِمَامَةُ مُصْحَفٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَأَنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَعَفَةٌ مِنْ غَضِبٍ، قَالَ: نَعَمْ، كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَقُلْتُ: أَثَمَّ هُوَ؟، قَالُوا: لَا، فَخَرَجَ عَلِيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ كَلَامَكَ فَدَخَلَ فِي أَرِيكَةِ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟، قَالَ: أَنَا وَاللهِ لِأُحَدِّثُكَ ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ أَوْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتُ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللهِ مُعْسِرًا، قَالَ: آللَّهِ، فَقُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ؟، فَقُلْتُ: اللهِ، قَالَ: آللَّهِ؟، فَقُلْتُ: اللهِ، فَنَسَوْتُ الصَّحِيفَةَ فَمَحَوْتُ الْحَقَّ، وَقُلْتُ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ وَإِلَّا فَأَنْتَ فِي حَلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصُرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ»
قُلْتُ لَهُ أَنَا: يَا عَمُّ لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِكَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّكَ وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ فَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ، فَكَانَ عَلَيْكَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِ، يَا ابْنَ أَخِي أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَشَارَ إِلَى عَيْنَيْهِ وَإِلَى أُذُنَيْهِ وَإِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ» ، وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَالِ الدُّنْيَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں، ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے پہلے، علم حاصل کرنے نکلے۔ سب سے پہلے ہماری ملاقات نبی کریم ﷺ کے صحابی سیدنا ابو الیسر سلمی رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا، ان پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام پر ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا، اور (ساتھ) لکھے ہوئے اوراق کا ایک گٹھا تھا۔ میرے والد نے ان سے کہا: مجھے آپ کے چہرے پر غصے کا کچھ اثر دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں حرامی پر میرا کچھ مال (قرض) تھا، میں اس کے گھر والوں کے پاس گیا اور پوچھا: کیا وہ یہاں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر اس کا ایک نوعمر بیٹا میرے پاس نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: اس نے آپ کی آواز سنی تو میری ماں کے چھپر کھٹ میں جا گھسا۔ میں نے کہا: میرے پاس نکل آؤ، مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہ میرے پاس نکل آیا تو میں نے کہا: تمہیں مجھ سے چھپنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں اور آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا، اللہ کی قسم! مجھے ڈر تھا کہ آپ سے بات کروں تو جھوٹ بولوں، یا آپ سے وعدہ کروں تو وعدہ خلافی کروں، حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، اور اللہ کی قسم! میں تنگ دست تھا۔ (پھر قسم پر یوں سوال و جواب ہوا:) اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! اللہ کی قسم؟ اللہ کی قسم! پھر میں نے وہ تحریر نکالی اور اس میں سے اپنا حق مٹا دیا، اور کہا: اگر تمہیں ادائیگی کی گنجائش ملے تو ادا کر دینا، ورنہ تم بری الذمہ ہو۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا — اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں — اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا — اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں — اور میرے اس دل نے اسے یاد رکھا — اور انہوں نے اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا — کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کے لیے معاف کر دے، اللہ اسے اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔“
میں نے ان سے عرض کیا: چچا جان! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے اپنی معافری چادر دے دیں، اور اس کی معافری چادر لے کر اسے اپنی چادر دے دیں، تو آپ پر بھی ایک پورا لباس ہو اور اس پر بھی ایک پورا لباس ہو؟ تو انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اے اللہ! اس میں برکت ڈال۔ بھتیجے! میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا، اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا — اور انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں، دونوں کانوں اور اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا — کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”انہیں (غلاموں کو) وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔“ اور مجھے یہ زیادہ پسند تھا کہ میں اسے دنیا کے مال میں سے کچھ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن وہ میری نیکیوں میں سے کچھ لے لے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16428
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 168، حدیث 379