المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو يونس سليم بن جبير مولى أبي هريرة، عن أبي اليسر باب: ابویونس سلیم بن جبیر، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16426
مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو يُونُسَ، أَنَّ أَبَا الْيَسَرِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ» أَوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِرًا حَتَّى يَجِدَ شَيْئًا أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبُهُ، يَقُولُ مَا لِي عَلَيْكَ صَدَقَةٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ وَيَحْرِقُ صَحِيفَتَهُ "ترجمہ
سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتا ہوں، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے اللہ کے سائے میں سایہ پانے والا وہ آدمی ہو گا جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یہاں تک کہ اسے کچھ استطاعت ہو، یا اس کا مطلوبہ قرض اسے صدقہ کر دیا، وہ کہے: میرا تجھ پر کوئی قرض نہیں، محض اللہ کی رضا کے لیے، اور اپنی تحریر (دستاویز) جلا دے۔“