حدیث نمبر: 16419
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ مُوسَى، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أَبِي الْيَسَرِ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: نَظَرْتُ يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّهُ صَنَمٌ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: جَزَاكَ اللهُ مِنْ ذِي رَحِمٍ شَرًّا، أَتُقَاتِلُ ابْنَ أَخِيكَ مَعَ عَدُوِّهِ؟، قَالَ: مَا فَعَلَ وَهَلْ أَصَابَهُ الْقَتْلُ؟، قُلْتُ: اللهُ أَعَزُّ لَهُ وَأَنْصَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: مَا تُرِيدُ إِلَيَّ؟، قُلْتُ: إِسَارٌ، لَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتَلِكَ، قَالَ: لَسْتُ أَوَّلَ صِلَبهِ، فَأَسَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بدر کے دن عباس بن عبدالمطلب کو دیکھا، وہ بت کی طرح کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، جب میں نے انہیں دیکھا تو کہا: اللہ تجھے قرابت داری کے بدلے برا بدلہ دے، کیا تو اپنے بھتیجے کے خلاف اس کے دشمن کا ساتھ دے کر لڑ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا، کیا وہ قتل ہو گیا؟ میں نے کہا: اللہ اس سے زیادہ غالب اور مددگار ہے۔ انہوں نے کہا: تو مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: قید کرنا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے تجھے قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں پہلا قیدی نہیں ہوں۔ تو میں نے انہیں قیدی بنا لیا، پھر انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16419
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 164، حدیث 370