المعجم الكبير للطبراني
باب الكاف— حرف کاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
موسى بن طلحة، عن أبي اليسر باب: موسیٰ بن طلحہ کی سیدنا ابویسر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أبِي الْيَسَرِ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَبْتَاعُ مِنِّي تَمْرًا، فَقُلْتُ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ تَمْرًا أَطْيَبُ مِنْهُ، فَدَخَلَتْ مَعِي الْبَيْتَ فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَغَمَزْتُهَا وَقَبَّلْتُهَا فَأُسْقِطَ فِي يَدَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «أَخَلَفْتَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِمِثْلِ هَذَا؟» ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا تِلْكَ السَّاعَةِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَطْرَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ أَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ} [هود: ١١٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو الْيَسَرِ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأَهَا عَلِيَّ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟، قَالَ: «بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً»سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت میرے پاس کھجوریں خریدنے آئی، میں نے کہا: گھر میں اس سے بہتر کھجوریں ہیں، تو وہ میرے ساتھ گھر میں داخل ہو گئی، میں اس کی طرف جھکا، اسے دبایا اور اس کا بوسہ لے لیا، پھر میں سخت نادم ہوا۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، تو انہوں نے کہا: اپنے آپ پر پردہ ڈالو اور کسی کو نہ بتاؤ۔ لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ایک مجاہد کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کے ساتھ اس طرح کی خیانت کی؟“ یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں ابھی اسی گھڑی اسلام لایا ہوتا، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میں جہنمیوں میں سے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ دیر تک سر جھکائے رہے، پھر اللہ نے آپ پر وحی نازل کی: ”دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو“ [سورۃ ھود: 114] آیت کے آخر تک۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے یہ آیت مجھ پر پڑھی، تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ خاص انہی کے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ عام لوگوں کے لیے ہے۔“