حدیث نمبر: 16368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُشْتَرٍ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُهْلِكُهَا»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ»
: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ تَعَوَّذْ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟، قَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ فَيَعْلَمُونَ، فَمَنْ أَتَاهُمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسُ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَى الْحَوْضِ»
ترجمہ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کے صبح کرنے والے ہیں: ایک وہ جو اپنے آپ کو خرید کر آزاد کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنے آپ کو بیچ کر ہلاک کرنے والا ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! نماز دلیل ہے، روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ رب کے غضب کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔“
”اے کعب بن عجرہ! بے وقوفوں کی حکمرانی سے پناہ مانگو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بے وقوفوں کی حکمرانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ حکمران ہوں گے جو بات کریں گے تو جھوٹ بولیں گے، اور جہالت کے باوجود خود کو عالم سمجھیں گے، تو جو ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر آنے والا نہیں۔ اور جو ان کے پاس نہ جائے، نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے، اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر آنے والا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16368
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 145، حدیث 318