المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب: ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب: ابوذر رضی اللہ عنہ کی مسند کی نادر روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، أَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرًّ بِالرَّبَذَةِ يَسُوقُ بَعِيرًا لَهُ، عَلَيْهِ مُزَادَتَانِ فِي عُنُقِ الْبَعِيرِ قِرْبَةٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرًّ مَالَكَ؟ قَالَ: لِي عَمَلِي، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ»
قَالَ: قُلْتُ زِدْنِي رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» ، قُلْتُ: زَوْجَيْنِ مَاذَا؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ صَاحِبَ خَيْلٍ فَفَرَسَيْنِ، وَصَاحِبَ إِبِلٍ فَبَعِيرَيْنِ، وَصَاحِبَ بَقَرٍ فَبَقَرَتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ أَصْنَافَ هَذَا الضَّرْبِ»صعصعہ بن معاویہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات ربذہ کے مقام پر ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، وہ اپنے اونٹ کو ہانک رہے تھے، اس پر دو بڑے مشکیزے تھے اور اونٹ کی گردن پر ایک چھوٹا مشکیزہ بھی، تو انہوں نے پوچھا: اے ابوذر، تمہارا کیا حال ہے؟ فرمایا: میرا تو بس میرا عمل ہے۔ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جن بھی دو مسلمانوں (ماں باپ) کے تین بچے فوت ہوجائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں، تو اللہ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو بخش دیتا ہے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مزید بیان کیجیے۔ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو جنت کے دربان اس کا استقبال کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے جو اس کے پاس ہے۔“ میں نے کہا: جوڑے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اگر وہ گھوڑوں والا ہے تو دو گھوڑے، اونٹوں والا ہے تو دو اونٹ، گائے بیل والا ہے تو دو گائیں“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسی طرح کی مزید اقسام گنائیں۔