حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زَيْنَبَ، مَوْلَى حَازِمٍ الْغِفَارِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرًّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرًّ تَقُولُ كَثْرَةُ الْمَالِ الْغِنَى؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «تَقُولُ قِلَّةُ الْمَالِ الْفَقْرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِنَى فِي الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فِي الْقَلْبِ، مَنْ كَانَ الْغِنَى فِي قَلْبِهِ لَا يَضُرُّهُ، مَا لَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَنْ كَانَ الْفَقْرُ فِي قَلْبِهِ، فَلَا يُغْنِيهِ مَا أَكْثَرَ لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّمَا يَضُرُّ نَفْسَهُ شُحُّها»
ترجمہ

ابوزینب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر، کیا تم مال کی کثرت کو غنا سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کیا تم مال کی کمی کو فقر سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غنا دل میں ہے اور فقر بھی دل میں ہے، جس کے دل میں غنا ہو اسے دنیا کی کوئی بھی تنگی نقصان نہیں پہنچاتی، اور جس کے دل میں فقر ہو تو دنیا میں اس کے لیے مال کی کتنی ہی کثرت ہو اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی، اور آدمی کو اصل نقصان اس کے نفس کی بخیلی سے پہنچتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1630
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 154، حدیث 1643