حدیث نمبر: 16252
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَتَجَهَّزُ غَدًا ثُمَّ أَلْحَقُهُ، فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، ثُمَّ قُلْتُ أَجِدُّ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ فَأَلْحَقُهُمْ، فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، فَقُلْتُ هَيْهَاتَ، سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا، فَأَقَمْتُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا، وَأَمَرَ نِسَاءَنَا أَنْ يَتَجَنَّبْنَ عَنَّا، قَالَ: فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَقُلْتُ: أَيْ جَابِرُ‍ نَشَدْتُكَ بِاللهِ هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ؟، فَسَكَتَ عَنِّي، فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي، فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ: كَعْبًا كَعْبًا، فَدَنَا مِنِّي، فَقَالَ: بَشِّرُوا كَعْبًا
ترجمہ

سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اتنا آسودہ نہیں تھا جتنا اس غزوے میں تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نکلے تو میں نے سوچا: کل تیاری کر لوں گا پھر آپ ﷺ سے جا ملوں گا۔ چنانچہ میں اپنی تیاری میں لگ گیا، شام ہو گئی اور میں فارغ نہ ہو سکا، پھر میں نے سوچا: کل اپنی تیاری میں محنت کروں گا، لوگ ابھی قریب ہی ہوں گے تو انہیں جا ملوں گا، پھر شام ہو گئی اور میں فارغ نہ ہو سکا۔ جب تیسرا دن آیا تو میں نے پھر تیاری شروع کی، شام ہو گئی اور میں پھر فارغ نہ ہو سکا، تو میں نے کہا: افسوس! لوگ تین دن پہلے نکل چکے ہیں، تو میں وہیں رک گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ سے معذرت کرنے لگے، تو میں آیا اور آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہو گیا، اور کہا: میں کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اتنا آسودہ نہیں تھا جتنا اس غزوے میں تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ہم سے بات نہ کریں، اور ہماری عورتوں کو حکم دیا کہ وہ ہم سے دور رہیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن میں ایک باغ کی دیوار پھلانگا تو اچانک میرا سامنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوا، تو میں نے کہا: اے جابر! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کبھی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ کیا ہو؟ تو وہ خاموش رہے اور مجھ سے بات نہ کی۔ ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میں نے ایک شخص کو ٹیلے پر یہ کہتے سنا: کعب! کعب! تو وہ میرے قریب آیا اور کہا: کعب کو خوشخبری دو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الكاف / حدیث: 16252
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 101، حدیث 202