المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قرة بن هبيرة القشيري باب: سیدنا قرہ بن ہبیرہ قشیری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا شَيْخٌ بِالسَّاحِلِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ، يُقَالُ لَهُ: قُرَّةُ بْنُ هُبَيْرَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ لَنَا أَرْبَابٌ وَرَبَّاتٌ نَعْبُدُهُنَّ مِنْ دُونِ اللهِ، فَدَعَوْنَاهُنَّ فَلَمْ يُجِبْنَ، وَسَأَلْنَاهُنَّ فَلَمْ يُعْطِينَ، فَجِئْنَاكَ فَهَدَانَا اللهُ بِكَ، فَنَحْنُ نَعْبُدُ اللهَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ مَنْ رُزِقَ لُبًّا»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اكْسُنِي ثَوْبَيْنِ مِنْ ثِيَابِكَ قَدْ لَبِسْتَهُمَا فَكَسَاهُ، فَلَمَّا كَانَ بِالْمَوْقِفِ فِي عَرَفَاتٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ عَلِيَّ مَقَالَتَكَ» ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ مَنْ رُزِقَ لُبًّا»بنو قشیر کے ایک شخص سیدنا قرہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے کچھ رب اور دیویاں تھیں جن کی ہم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، ہم نے انہیں پکارا مگر انہوں نے جواب نہ دیا، اور ہم نے ان سے سوال کیا مگر انہوں نے کچھ نہ دیا، پھر ہم آپ کے پاس آئے تو اللہ نے آپ کے ذریعے ہمیں ہدایت دی، اب ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فلاح پا گیا وہ شخص جسے عقل عطا کی گئی۔“
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنے ان کپڑوں میں سے دو کپڑے پہنا دیجیے جو آپ پہن چکے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا دیے۔ پھر جب عرفات میں موقف پر تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بات مجھے دوبارہ سناؤ۔“ تو انہوں نے وہی بات دوبارہ کہی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فلاح پا گیا وہ شخص جسے عقل عطا کی گئی۔“