المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قبيصة بن مخارق الهلالي باب: سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَسْأَلَهُ فِي حَمَالَةٍ فَقَالَ: " أَقِمْ حَتَّى تَأْتِينَا الصَّدَقَةُ، فَإِمَّا أَنْ نُصِيبَكَ وإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا عَنْكَ، فَقَالَ فِيهَا: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثٍ، رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ بَيْنَ قَوْمٍ فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَدْ أَصَابَتْهُ مَا يَحِلُّ، أَوْ قَالَ: حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَيَحِلُّ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَو سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ، وَمَا سِوَى ذَلِك مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَا قَبِيصَةُ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا ". وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَسیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ضمانت کے بارے میں سوال کرنے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے، تو یا تو ہم تمہیں اس میں سے دیں گے یا اسے تمہاری طرف سے اٹھا لیں گے۔“ پھر اس بارے میں فرمایا: ”سوال کرنا صرف تین کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے درمیان ضمانت اٹھائے، وہ اس میں سوال کرے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جسے ضرورت پیش آئے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ گواہی دیں کہ اسے واقعی وہ چیز پہنچی ہے جس سے سوال جائز ہوتا ہے، تو اس کے لیے سوال جائز ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے یا کفایت کے لائق کچھ حاصل کر لے، پھر رک جائے۔ اور اے قبیصہ! ان کے علاوہ سوال کرنا حرام کمائی ہے جسے سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابن علیہ کی روایت کے ہیں۔