حدیث نمبر: 16039
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي فَأَعِنِّي عَلَيْهَا، قَالَ: «بَلْ نَتَحَمَّلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ، هِيَ لَكَ فِي الصَّدَقَةِ إِذَا كَانَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ، رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ عَنْ قَوْمِهِ أَرَادَ بِهِ الْإِصْلَاحَ فَسَأَلَ فَإِذَا بَلَغَ أَمْسَكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَمَشَى ثَلَاثَةٌ مِن ذَوِي الْحِجَى مِن قَوْمِهِ فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَو سِدَادًا أَمْسَكَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ» . مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ

سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کی خاطر ایک ضمانت اپنے ذمے لے لی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی قوم کی خاطر ایک ضمانت اپنے ذمے لی ہے، لہٰذا میری مدد کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اے قبیصہ! ہم اسے تمہاری طرف سے اٹھا لیں گے، جب صدقہ آئے گا تو وہ تمہارے لیے ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین میں سے ایک کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جو اپنی قوم کی خاطر ضمانت اٹھائے تاکہ صلح کرا دے، وہ سوال کرے، اور جب رقم پوری ہو جائے تو رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جسے فاقہ پہنچے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ (تصدیق کرتے ہوئے) چل کر آئیں، تو وہ سوال کرے یہاں تک کہ گزارے یا کفایت کے لائق کچھ حاصل کر لے، پھر رک جائے۔ اور اے قبیصہ! ان کے علاوہ سوال کرنا حرام کمائی ہے۔“ (آپ ﷺ نے یہ بات دو بار دہرائی۔)

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16039
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 372، حدیث 949