حدیث نمبر: 16037
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، قَالَ: «أَقِم يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَجِيءَ الصَّدَقَةُ فَنُعْطِيكَ مِنْهَا» ثُمَّ قَالَ: يَا قَبِيصَةَ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ، رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنَ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَو قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَاهُنَّ الْمَسْأَلَةُ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا "
ترجمہ

سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک ضمانت اپنے ذمے لے لی تھی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بارے میں سوال کرنے آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ صدقہ آئے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں۔“ پھر فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جو کسی ضمانت کا بوجھ اٹھائے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ رقم حاصل کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جسے فقر و فاقہ پہنچے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ کہیں کہ فلاں کو واقعی فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کے لائق یا کفایت کے لائق کچھ حاصل کر لے۔ اور اے قبیصہ! ان کے علاوہ سوال کرنا حرام کمائی ہے جسے سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16037
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 371، حدیث 947