المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قبيصة بن مخارق الهلالي باب: سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ إِذْ جَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ يَسْتَعِينُونَهُ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهَمْ شَيْئًا فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ كِنَانَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ، وَأَتَوكَ يَسْأَلُونَكَ فَلَمْ تُعْطِهِمْ شَيْئًا، قَالَ: أَمَّا فِي هَذَا فَلَا أُعْطِي شَيْئًا وَلَوْ عَضَّهُ بِقَدٍّ حَتَّى يَقْحَلَهُ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ فِي مِثْلِ هَذَا، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي وَأَتَيْتُكَ لِتُعِينَنِي فِيهَا، قَالَ: «بَلْ نَحْمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ وَنُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ مِنَ الصَّدَقَةِ» فَقَالَ: «يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ، رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشِهِ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ لَهُ ثَلَاثُ نَفَرٍ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ قَدْ حَلَّتْ لَهُ فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنَ الْعَيْشِ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَيَسْأَلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَمْسَكَ، وَمَا كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّهُ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ سُحْتًا»کنانہ عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے، وہ اپنے ایک آدمی کے نکاح میں ان سے مدد مانگ رہے تھے، تو انہوں نے انہیں کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا، چنانچہ وہ ان کے پاس سے چلے گئے۔ کنانہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں، وہ آپ کے پاس مانگنے آئے اور آپ نے انہیں کچھ نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: رہا اس معاملے میں تو میں کچھ نہیں دوں گا، اگر وہ (بھوک سے) چمڑے کا تسمہ چبائے یہاں تک کہ وہ اسے سکھا دے، تب بھی یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس جیسے کام میں لوگوں سے سوال کرے۔ اور میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں: میں نے اپنی قوم کی خاطر ایک ضمانت اپنے ذمے لے لی تھی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی قوم کی خاطر ایک ضمانت اپنے ذمے لی ہے اور آپ کے پاس اس میں مدد کے لیے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اے قبیصہ! ہم یہ قرض تمہاری طرف سے اٹھا لیں گے اور صدقہ کے مال سے انہیں ادا کر دیں گے۔“ پھر فرمایا: ”اے قبیصہ! سوال کرنا حرام ہے، سوائے تین حالتوں کے: ایک وہ شخص جس پر کوئی آفت آ پڑے جو اس کا مال اجاڑ دے، تو وہ اتنا سوال کر سکتا ہے کہ اپنے گزارے کے لائق کچھ حاصل کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جسے کوئی سخت ضرورت پیش آئے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند لوگ گواہی دیں کہ اس کے لیے سوال کرنا جائز ہو گیا ہے، تو وہ اتنا سوال کرے کہ گزارے کے لائق حاصل کر لے، پھر رک جائے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی ضمانت کا بوجھ اٹھائے، وہ سوال کرے یہاں تک کہ رقم پوری ہو جائے، پھر رک جائے۔ اور اس کے علاوہ سوال کرنا حرام کمائی ہے جسے کھانے والا حرام کھاتا ہے۔“