المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخبار قيس باب: سیدنا قیس رضی اللہ عنہ کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 15975
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ ثُمَّ تُوُفِّيَ وَامْرَأَتُهُ حُبْلَى لَمْ يَعْلَمْ بِحَبَلِهَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَأَرْسَلَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ فِي ذَلِكَ إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: أَمَّا أَمْرٌ قَسَمَهُ سَعْدٌ وَأَمْضَاهُ فَلَنْ أَعُودَ فِيهِ، وَلَكِنْ نَصِيبِي لَهُ قُلْتُ: أَعْلَى كِتَابِ اللهِ قَسَّمَ؟ قَالَ: لَا نَجِدُهُمْ كَانُوا يَقْسِمُونَ إِلَّا عَلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیا، پھر وفات پا گئے جبکہ ان کی بیوی حاملہ تھیں اور انہیں اس حمل کا علم نہیں تھا۔ اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا، تو سیدنا عمر اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: جو معاملہ سعد نے تقسیم کر کے نافذ کر دیا اس میں، میں کبھی رجوع نہیں کروں گا، البتہ میرا حصہ اس نومولود کا ہوگا۔ میں نے پوچھا: کیا انہوں نے اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم انہیں اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کرتے ہی پاتے تھے۔