المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من أخبار قيس باب: سیدنا قیس رضی اللہ عنہ کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ فِي حَيَاتِهِ، فَوُلِدَ لَهُ وَلَدٌ بَعْدَمَا مَاتَ فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: مَا نِمْتُ اللَّيْلَةَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ سَعْدٍ، هَذَا الْمَوْلُودُ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَاللهِ مَا نِمْتُ اللَّيْلَةَ أَو كَمَا قَالَ: مِنْ أَجْلِه، فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ نُكَلِّمُهُ فِي أَخِيهِ فَأَتَيَاهُ فَكَلَّمَاه، فَقَالَ قَيْسٌ: أَمَّا شَيْءٌ أَمْضَاهُ سَعْدٌ فَلَا أَرُدُّهُ أَبَدًا، وَلَكِنْ أُشْهِدُكُمَا أَنَّ نَصِيبِي لَهُسیدنا ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں اپنا مال اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیا، پھر ان کی وفات کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: میں رات کو سعد کے اس نومولود بیٹے کی وجہ سے نہیں سو سکا، کہ اس کے لیے کچھ نہیں چھوڑا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی رات کو اسی کی وجہ سے نہیں سو سکا۔ چلو ہم سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے ان کے بھائی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں ان کے پاس آئے اور بات کی، تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ سعد نے نافذ کر دیا اسے میں کبھی واپس نہیں لوں گا، البتہ میں تم دونوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا حصہ اس بھائی کا ہے۔