حدیث نمبر: 15968
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: «فِي خَمْسِ عَشْرَةَ» قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فِي جُمُعَةٍ» قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَمَكَثَ كَذَلِكَ يَقْرَؤُهُ زَمَانًا حَتَّى كَبِرَ وَكَانَ يَعْصِبُ عَلَى عَيْنَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ فَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي خَمْسِ عَشْرَةَ، قَالَ: يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُولَى
ترجمہ

سیدنا قیس بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پندرہ دن میں۔“ انہوں نے عرض کیا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ طاقتور پاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ہفتے میں۔“ انہوں نے عرض کیا: میں اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ طاقتور پاتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ ایک عرصے تک اسی طرح قرآن پڑھتے رہے، یہاں تک کہ بوڑھے ہو گئے اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے لگے، پھر انہوں نے پندرہ دن کی طرف رجوع کر لیا اور پندرہ دن میں قرآن پڑھنے لگے، اور فرمانے لگے: کاش میں نے رسول اللہ ﷺ کی پہلی رخصت قبول کر لی ہوتی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 15968
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 344، حدیث 877