المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن خرشة القيسي باب: سیدنا قیس بن خرشہ قیسی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ الثَّقَفِيَّ قَالَ: اصْطَحَبَ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ وَكَعْبُ الْكِتَابَيْنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَا صِفِّينَ وَقَفَ كَعْبٌ سَاعَةً فَقَالَ: لَا إِلَهَ إلَّا اللهُ لَيُهْرَاقَنَّ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ شَيْءٌ لَا يُهَرَاقُ بِبُقْعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَغَضِبَ قَيْسٌ ثُمًَّ قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَمَا هَذَا مِنَ الْغَيْبِ الَّذِي اسْتَأْثَرَ اللهُ بِهِ؟ فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنَ الْأَرْضِ شَيْءٌ إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُوسَى مَا يَكُونُ عَلَيْهِ وَمَا يَخْرُجُ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: وَمَنْ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ وَمَا تَعْرِفُهُ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بِلَادِكَ، قَالَ: وَاللهِ مَا أَعْرِفُهُ، قَالَ: فَإِنَّ قَيْسَ بْنَ خَرَشَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى مَا جَاءَكَ مِنَ اللهِ وَعَلَى أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا قَيْسُ إِنْ مَدَّ بِكَ الدَّهْرُ أَنْ يَلِيَكَ بَعْدِي وُلَاةٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُولَ الْحَقَّ مَعَهُمْ» فَقَالَ قَيْسٌ: وَاللهِ لَا أُبَايِعُكَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا وَفَّيْتُ لَكَ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا لَا يَضُرُّكَ شَيْءٌ» قَالَ: فَكَانَ قَيْسٌ يَعِيبُ زِيَادًا وَابْنَهُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَفْتَرِي عَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟ فَقَالَ: لَا، لَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ مَنْ يَفْتَرِي عَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ، مَنْ تَرَكَ الْعَمَلَ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ، محمد بن ابی زیاد ثقفی کو بیان کر رہے تھے کہ سیدنا قیس بن خرشہ رضی اللہ عنہ اور کعب الکتابین ایک ساتھ سفر میں تھے، یہاں تک کہ جب وہ دونوں صفین پہنچے تو کعب کچھ دیر ٹھہرے اور کہا: لا الہ الا اللہ! اس خطے میں مسلمانوں کا اتنا خون بہایا جائے گا جتنا زمین کے کسی اور خطے میں نہیں بہایا جائے گا۔ اس پر قیس رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، پھر کہا: اے ابواسحاق! تمہیں کیا معلوم؟ کیا یہ اس غیب میں سے نہیں جس کا علم اللہ نے اپنے لیے خاص رکھا ہے؟ کعب نے کہا: زمین کی کوئی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس تورات میں لکھی ہوئی ہے جو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی کہ قیامت کے دن تک اس پر کیا ہوگا اور اس میں سے کیا نکلے گا۔ محمد بن یزید نے پوچھا: قیس بن خرشہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: قیس (قبیلے) کے ایک آدمی ہیں، کیا تم انہیں نہیں جانتے حالانکہ وہ تمہارے ہی علاقے کے آدمی ہیں؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں انہیں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا: سیدنا قیس بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں آپ سے اس پر بیعت کرتا ہوں جو اللہ کی طرف سے آپ پر نازل ہوا، اور اس پر کہ میں حق بات کہوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے قیس! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو میرے بعد تم پر ایسے حاکم آئیں گے جن کے ساتھ تم حق بات نہ کہہ سکو گے۔“ قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں آپ سے جس بات پر بیعت کروں گا اسے پورا کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ قیس زیاد اور اس کے بیٹے عبیداللہ بن زیاد پر عیب لگاتے تھے۔ (زیاد نے) ان کے پاس آدمی بھیجا اور کہلوایا: کیا تم وہی ہو جو اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ کون باندھتا ہے: وہ شخص جو اللہ عزوجل کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل چھوڑ دے۔