المعجم الكبير للطبراني
باب الفاء— حرف فا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الفلتان بن عاصم باب: سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السطوي، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟» قَالَ: نَعَمْ، وَالْإِنْجِيلَ، قَالَ: «وَالْقُرْآنَ؟» قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ نَاشَدَهُ قَالَ: «تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ؟» قَالَ: أَجِدُكَ مِثْلَكَ وَمِثْلَ هَيْأَتِكَ وَمِثْلَ مَخْرَجِكَ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنَّا، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَحَيَّرْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ هُوَ فَنَظَرْنَا وَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ، قَالَ: «وَلِمَ ذَلِكَ؟» قَالَ: إِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، وَمَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنَا هُوَ وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي لَأَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا»سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم مسجد میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ آپ کی نگاہ مسجد میں چلتے ہوئے ایک آدمی پر جم گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں!“ اس نے کہا: حاضر ہوں، یا رسول اللہ۔ (راوی کہتے ہیں:) اور وہ جب بھی بات کرتا صرف ”یا رسول اللہ“ ہی کہتا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم تورات پڑھتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اور انجیل بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور قرآن؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں چاہوں تو وہ بھی پڑھ لوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے اس سے قسم دے کر پوچھا: ”کیا تم مجھے تورات اور انجیل میں پاتے ہو؟“ اس نے کہا: میں تمہیں اور تمہاری ہیئت اور تمہارے نکلنے کے مقام کو ویسا ہی پاتا ہوں، اور ہم امید رکھتے تھے کہ وہ آنے والا نبی ہم میں سے ہو، جب تم نکلے تو ہم حیران ہوئے کہ شاید تم وہی ہو، پھر ہم نے غور کیا تو تم وہ نہیں ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: کیونکہ اس نبی کے ساتھ اس کی امت میں سے ستر ہزار افراد ایسے ہوں گے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے، جبکہ تمہارے ساتھ تو تھوڑے سے لوگ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ہی وہ ہوں، اور میری امت میں سے وہ لوگ ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔“