حدیث نمبر: 15944
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي رَمَضَانَ صَوْتٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فِي أَوَّلِهِ أَو فِي وَسَطِهِ أَو فِي آخِرِهِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ، إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ يَكُونُ صَوْتٌ مِنَ السَّمَاءِ يُصْعَقُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَيُخْرَسُ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَيُعْمَى سَبْعُونَ أَلْفًا، وَيُصِمُّ سَبْعُونَ أَلْفًا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَنِ السَّالِمُ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «مَنْ لَزِمَ بَيْتَهُ، وَتَعَوَّذَ بِالسُّجُودِ، وَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ لِلَّهِ، ثُمَّ يَتْبَعُهُ صَوْتٌ آخَرُ، وَالصَّوْتُ الْأَوَّلُ صَوْتُ جِبْرِيلَ، وَالثَّانِي صَوْتُ الشَّيْطَانِ، فَالصَّوْتُ فِي رَمَضَانَ، وَالمَعْمَعَةُ فِي شَوَّالٍ، وَتُمَيَّزُ الْقَبَائِلُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَيَغَارُ عَلَى الْحُجَّاجِ فِي ذِي الْحِجَّةِ وَفِي الْمُحْرِمِ، وَمَا الْمُحْرَّمُ؟ أَوَّلُهُ بَلَاءٌ عَلَى أُمَّتِي، وَآخِرُهُ فَرَحٌ لِأُمَّتِي، الرَّاحِلَةُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ بِقَتَبِهَا يَنْجُو عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ لَهُ مِنْ دَسْكَرَةٍ تَغُلُّ مِائَةَ أَلْفٍ»
ترجمہ

سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان میں ایک آواز ہوگی۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کے شروع میں، درمیان میں، یا آخر میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ رمضان کے وسط میں، جب پندرہویں شب جمعہ کی رات ہوگی تو آسمان سے ایک آواز آئے گی جس سے ستر ہزار بیہوش ہو جائیں گے، ستر ہزار گونگے ہو جائیں گے، ستر ہزار اندھے ہو جائیں گے، اور ستر ہزار بہرے ہو جائیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو آپ کی امت میں سے کون محفوظ رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے گھر میں ٹھہرا رہے، سجدے کی پناہ لے، اور بلند آواز سے اللہ کی تکبیر کہے۔“ پھر اس کے پیچھے ایک اور آواز آئے گی، پہلی آواز جبریل کی ہوگی اور دوسری شیطان کی۔ رمضان میں وہ آواز ہوگی، شوال میں شور و ہنگامہ ہوگا، ذوالقعدہ میں قبائل الگ الگ ہو جائیں گے، ذوالحجہ اور محرم میں حاجیوں پر حملہ کیا جائے گا۔ اور محرم کیا ہے؟ اس کا شروع میری امت کے لیے آزمائش ہے اور اس کا آخر میری امت کے لیے خوشی۔ اس زمانے میں سواری اپنے پالان کے ساتھ تیار رکھی جائے گی، اس پر مومن اس شخص سے نجات پائے گا جو سو ہزار (دینار) پیدا کرنے والی جاگیر کا مالک ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الفاء / حدیث: 15944
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 332، حدیث 853