حدیث نمبر: 15809
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسٍ اللَّيْثِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ مَوْعُوكًا قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ» فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِنْبَرِ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «صَحْ فِي النَّاسِ» فَصِحْتُ فِي النَّاسِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّهُ قَدْ دَنَا مِنِّي حُقُوقٌ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، فَمَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرَهُ فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدَّ مِنْهُ، أَلَا وَمَنْ كُنْتُ شَتَمْتُ لَهُ عِرْضًا فَهَذَا عِرْضِي فَلْيَسْتَقِدَّ مِنْهُ، أَلَا لَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ إِنِّي أَخْشَى الشَّحْنَاءَ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَا وَإِنَّ الشَّحْنَاءَ لَيْسَتْ مِنْ طَبِيعَتِي وَلَا مِنْ شَأْنِي، أَلَا وَإِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ مَنْ أَخَذَ حَقًّا إِنْ كَانَ لَهُ، أَوْ حَلَّلَنِي فَلَقِيتُ اللهَ وَأَنَا طَيِّبُ النَّفْسِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ مُغْنِيًا عَنِّي حَتَّى أَقُومَ فِيكُمْ مِرَارًا» ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَعَادَ لِمَقَالَتِهِ فِي الشَّحْنَاءِ وَغَيْرِهَا، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَرُدَّهُ وَلَا يَقُولُ فُضُوحَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ فُضُوحَ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ» فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، قَالَ: «أَمَا إِنَّا لَا نُكَذِّبُ قَائِلًا وَلَا نَسْتَحْلِفُهُ، فَبِمَ صَارَتْ لَكَ عِنْدِي؟» قَالَ: تَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ مِسْكِينٌ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «ادْفَعْهَا إِلَيْهِ يَا فَضْلُ» ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: عِنْدِي ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ كُنْتُ غَلَلْتُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: «وَلِمَ غَلَلْتَهَا» قَالَ: كُنْتُ إِلَيْهَا مُحْتَاجًا، قَالَ: «خُذْهَا يَا فَضْلُ» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ خَشِيَ مِنْ نَفْسِهِ شَيْئًا فَلْيَقُمْ أَدْعُو لَهُ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَإِنِّي لَنَؤُومٌ، قَالَ: «اللهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَأَذْهَبْ عَنْهُ النَّوْمَ إِذَا أَرَادَ» ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَمَا شَيْءٌ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا وَقَدْ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا هَذَا، فَضَحْتَ نَفْسَكَ، فَقَالَ: «مَهْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فُضُوحُ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ» ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أَرْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَصَيِّرْ أَمَرَهُ إِلَى خَيْرٍ» فَكَلَّمَهُمْ عُمَرُ بِكَلِمَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمَرُ مَعِي وَأَنَا مَعَهُ، وَالْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ»
ترجمہ

سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں آپ کی طرف نکلا، دیکھا کہ آپ کو بخار ہے اور سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فضل! میرا ہاتھ پکڑو۔“ میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ منبر تک پہنچے، تو آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”لوگوں میں آواز دو۔“ میں نے لوگوں میں آواز دی تو لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگو! سن لو، تم میں سے کسی کے کچھ حقوق مجھ پر واجب ہو کر رہ گئے ہیں، تو میں نے جس کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے لے، سن لو، اور میں نے جس کی عزت پر کچھ کہا ہو یہ میری عزت حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔ سن لو، کوئی شخص یہ نہ کہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کینے کا خدشہ ہے، سن لو، کینہ میری طبیعت اور میرے مزاج میں نہیں۔ سن لو، تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اگر اس کا کوئی حق ہو تو وہ لے لے، یا مجھے معاف کر دے، تاکہ میں اللہ سے خوش دلی کے ساتھ ملوں۔ سن لو، میں یہ (ایک بار کہنا) کافی نہیں سمجھتا یہاں تک کہ تمہارے سامنے کئی بار کھڑا ہوں۔“ پھر آپ اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر دوبارہ منبر پر آئے اور کینے وغیرہ کے بارے میں اپنی بات دہرائی، پھر فرمایا: ”لوگو! جس کے پاس کوئی چیز (کسی کا حق) ہو وہ اسے لوٹا دے، اور یہ نہ کہے کہ دنیا میں رسوائی ہو جائے گی، کیونکہ دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے آسان ہے۔“ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے ذمے میرے تین درہم ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نہ کہنے والے کو جھٹلاتے ہیں اور نہ اس سے قسم لیتے ہیں، تو یہ میرے ذمے کیسے آئے؟“ اس نے کہا: آپ کو یاد ہے جس دن آپ کے پاس سے ایک مسکین گزرا تھا، آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ وہ (رقم) اسے دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فضل! یہ اسے دے دو۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میرے پاس تین درہم ہیں جو میں نے اللہ کی راہ (کے مال) سے چرا لیے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیوں چرائے؟“ اس نے کہا: مجھے ان کی ضرورت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فضل! یہ لے لو۔“ پھر فرمایا: ”لوگو! جسے اپنے نفس کے بارے میں کسی چیز کا خدشہ ہو وہ کھڑا ہو، میں اس کے لیے دعا کروں گا۔“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جھوٹا ہوں، اور میں منافق ہوں، اور مجھے بہت نیند آتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے سچائی اور ایمان عطا فرما، اور جب وہ (عبادت کا) ارادہ کرے تو اس سے نیند دور فرما۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں جھوٹا ہوں، اور میں منافق ہوں، اور کوئی گناہ ایسا نہیں جو میں نے نہ کیا ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اے شخص! تو نے اپنے آپ کو رسوا کر لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر! چھوڑو، دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے آسان ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے اللہ! اسے سچائی اور ایمان عطا فرما، اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف موڑ دے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ بات کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمر میرے ساتھ ہے اور میں عمر کے ساتھ ہوں، اور میرے بعد حق وہیں ہے جہاں عمر ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الفاء / حدیث: 15809
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 280، حدیث 718