المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جبير بن نفير، عن العرباض باب: جبیر بن نفیر کی سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ شَعْوِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدْ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنِّي قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي مِنْكُمْ إِلَّا هَالِكٌ، وَأَنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَإِيَّاكُمْ وَالْبِدَعَ، وَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَعَلَيْكُمْ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا»سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل خوفزدہ ہو گئے، تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! گویا یہ الوداع کرنے والے کا وعظ ہے، سو آپ ہم سے کیا عہد لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ایسے سفید (روشن) راستے پر چھوڑا ہے کہ اس کی رات بھی اس کے دن جیسی ہے، میرے بعد تم میں سے صرف ہلاک ہونے والا ہی اس سے ہٹے گا، اور تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، سو بدعتوں سے بچنا، اور میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا، اور سننے اور اطاعت کرنے کو لازم پکڑنا، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔“