حدیث نمبر: 15714
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ مهاصرِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَقَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ»
ترجمہ

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد ایک بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل خوفزدہ ہو گئے، تو آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو الوداع کرنے والے کا وعظ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، سو نئی نکالی ہوئی باتوں سے بچنا کیونکہ وہ بدعت ہیں، پس تم میں سے جو اس (زمانے) کو پائے وہ میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے، اور اسے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15714
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 248، حدیث 623