حدیث نمبر: 15713
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْمُطَاعِ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهُ الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَاعْهَدْ إِلَيْنَا، فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَسَيَرَى مَنْ بَقِيَ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ ضَلَالَةٌ»
ترجمہ

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل خوفزدہ ہو گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو ہمیں الوداع کرنے والے کا سا وعظ فرمایا ہے، سو ہم سے عہد لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرنے، سننے اور اطاعت کرنے کو لازم پکڑو، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ میرے بعد جو باقی رہے گا وہ سخت اختلاف دیکھے گا، سو میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اور اسے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا، اور نئی نکالی ہوئی باتوں سے بچنا، کیونکہ ہر نئی بات گمراہی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15713
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 248، حدیث 622