المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو حرب بن أبي أسود الدؤلي، عن عمران بن حصين باب: ابوحرب بن ابی اسود دؤلی کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، قَالَ: قَالَ الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ أَبُو حَرْبٍ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ مُتَعَبِّدٌ صَاحِبُ صَوْمَعَةٍ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ، وَكَانَتْ تَأْتِيَهِ فَتُنَادِيهِ، فَيُشْرِفُ عَلَيْهَا فَيُكَلِّمُهَا، فَأَتَتْهُ يَوْمًا وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مُقْبِلٌ عَلَيْهَا، فَنَادَتْهُ فَحَكَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَجَعَلَتْ تُنَادِيهِ رَافِعَةً رَأْسَهَا، وَاضِعَةً يَدَهَا عَلَى جَبْهَتِهَا: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ جُرَيْجُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلَّ مَرَّةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ جُرَيْجٌ: أَيْ رَبِّ، أُمِّي أَوْ صَلَاتِي، فَغَضِبَتْ فَقَالَتِ: اللهُمَّ لَا يَمُوتَنَّ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ، قَالَ: وَبَلَغَتْ بِنْتُ مَلَكِ الْقَرْيَةِ، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ مَنْ صَاحِبُكِ؟ قَالَتْ: هُوَ صَاحِبُ الصَّوْمَعَةِ جُرَيْجٌ، فَمَا شَعَرَ حَتَّى سَمِعَ بِالْفُؤُوسِ فِي أَصْلِ صَوْمَعَتِهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُهُمْ: وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ؟ فَلَمْ يُجِيبُوهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَخَذَ الْحَبْلَ، فَتَدَلَّى، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ أَنْفَهُ، وَيَضْرِبُونَهُ وَيَقُولُونَ: مُرَاءٍ تُخَادِعُ النَّاسَ بِعَمَلِكَ، قَالَ لَهُمْ: وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: أَنْتَ صَاحِبُ بِنْتِ الْمَلِكِ الَّتِي أَحْبَلْتَهَا؟ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ؟ قَالُوا: وَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: الْغُلَامُ حَيٌّ هُوَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَتَوَلُّوا عَنِّي، فَتَوَلُّوا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْتَهَى، ثُمَّ مَشَى إِلَى شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا ثُمَّ أَتَى بِالْغُلَامِ وَهُوَ فِي مَهْدِهِ، فَضَرَبَهُ بِذَلِكَ الْغُصْنِ، وَقَالَ: يَا طَاغِيَةُ مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ الرَّاعِي، قَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ صَوْمَعَتَكَ بِذَهَبٍ، وَإِنْ شِئْتَ بِفِضَّةٍ، قَالَ: أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ " فَزَعَمَ أَبُو حَرْبٍ أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: «عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ»مفضل بن فضالہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے ابوحرب بن ابی الاسود کے پاس نیکی کا ذکر کیا، تو ابوحرب نے کہا: ہم نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس نیکی کا ذکر کیا، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس نیکی کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں یہ حدیث سنانا شروع کی اور فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں ایک عبادت گزار آدمی تھا جو ایک خانقاہ میں رہتا تھا، اسے جریج کہا جاتا تھا۔ اس کی ایک ماں تھی جو اس کے پاس آتی اور اسے پکارتی، تو وہ اس کی طرف جھانک کر اس سے بات کرتا۔ ایک دن وہ اس کے پاس آئی جبکہ وہ اپنی نماز میں تھا اور اسی میں مشغول تھا، تو اس نے اسے پکارا“ - رسول اللہ ﷺ نے اس کی نقل کی اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، جیسے وہ سر اٹھائے، اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے پکار رہی تھی: اے جریج، اے جریج، تین بار، ہر بار تین دفعہ۔ اس دوران جریج ہر بار کہتا رہا: اے میرے رب! میری ماں یا میری نماز؟ تو وہ ناراض ہوئی اور کہا: اے اللہ! جریج اس وقت تک نہ مرے جب تک وہ بدکار عورتوں کے چہرے نہ دیکھ لے۔ راوی کہتے ہیں: بستی کے بادشاہ کی بیٹی بلوغت کو پہنچی تو وہ حاملہ ہو گئی اور اس نے ایک بچہ جنا، تو لوگوں نے اس سے کہا: تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ تیرا ساتھی کون ہے؟ اس نے کہا: وہ خانقاہ والا جریج ہے۔ اسے کچھ خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ اس نے اپنی خانقاہ کی جڑ میں کلہاڑیوں کی آواز سنی، تو وہ ان سے پوچھنے لگا: تمہاری خرابی ہو، تمہیں کیا ہوا؟ تو انہوں نے اسے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے یہ دیکھا تو رسی پکڑی اور نیچے اترا، تو وہ اس کی ناک پکڑ کر گھسیٹنے اور اسے مارنے لگے اور کہنے لگے: تو ریاکار ہے، اپنے عمل سے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے۔ اس نے ان سے کہا: تمہاری خرابی ہو، تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: تو ہی وہ ہے جس نے بادشاہ کی بیٹی کو حاملہ کیا؟ اس نے کہا: پھر اس نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: اس نے ایک بچہ جنا ہے۔ اس نے کہا: کیا وہ بچہ زندہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ الگ ہو گئے، اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فارغ ہوا، پھر ایک درخت کی طرف چلا اور اس سے ایک شاخ توڑی، پھر بچے کے پاس آیا جو اپنے گہوارے میں تھا، اسے اس شاخ سے مارا اور کہا: اے سرکش! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا باپ فلاں چرواہا ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر تم چاہو تو ہم تمہاری خانقاہ سونے سے بنا دیں، اور اگر چاہو تو چاندی سے۔ اس نے کہا: اسے ویسا ہی دوبارہ بنا دو جیسی تھی۔“ ابوحرب کا خیال ہے کہ گہوارے میں صرف تین نے بات کی: عیسیٰ بن مریم علیہما السلام، یوسف علیہ السلام کے بے گناہی کے گواہ بچے، اور جریج کے ساتھی بچے۔