المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفوان بن محرز المازني عن عمران بن حصين باب: صفوان بن محرز مازنی کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ ثُمَّ دَخَلْتُ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ» قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ» فَقَالُوا: لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلُكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ، كَيْفَ كَانَ؟ فَقَالَ: «كَانَ اللهُ تَعَالَى لَمْ يَكُ شَيْءٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» ثُمَّ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ: أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُهَا تَنْقَطِعُ دُونَهَا السَّرَابُ، وَايْمُ اللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَاسیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اپنی اونٹنی دروازے پر باندھی، پھر اندر گیا۔ بنو تمیم کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے کہا: آپ نے قبول کروا دی، اب ہمیں عطا بھی کیجیے۔ پھر اہلِ یمن کا ایک گروہ آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہلِ یمن! خوشخبری قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔“ انہوں نے کہا: ہم دین کی سمجھ حاصل کرنے آئے ہیں، اور آپ سے اس معاملے کی ابتدا کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کیسے تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی، اور اس کا عرش پانی پر تھا، اور اس نے لوحِ محفوظ میں ہر چیز لکھ دی، پھر آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔“ پھر ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا: اپنی اونٹنی سنبھالو، وہ چلی گئی ہے، تو میں نکلا اور اسے پایا کہ سراب اس کے آگے نظروں سے اوجھل کیے دے رہا تھا، اور اللہ کی قسم، میری خواہش تھی کہ میں نے اسے چھوڑ ہی دیا ہوتا۔