المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو قلابة عن عمه أبي المهلب عن عمران أيوب عن أبي قلابة باب: ابوقلابہ کی، اپنے چچا ابوالمہلب کے واسطے سے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات؛ ایوب کی ابوقلابہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ، وَكَانَتِ الْعَضْبَاءُ فِيمَا ذَهَبُوا بِهِ، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانُوا إِذَا اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ، فَلَمَّا كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ قَامَتِ الْمَرْأَةُ لَيْلَةً، وَقَدْ ثُوِّبُوا فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مَحْرُوسَةٍ فَرَكِبَتْهَا، وَجَعَلَتْ إِنِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَتْ عَرَفَتِ النَّاقَةَ، قِيلَ: نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ: «شَرُّ مَا جَزَيْتِهَا، إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرِينَهَا، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مشرکین نے مدینہ کے چرنے والے جانوروں پر چھاپہ مارا اور انہیں لے گئے، اور عضباء بھی ان جانوروں میں تھی جنہیں وہ لے گئے، اور انہوں نے مسلمانوں میں سے ایک عورت کو بھی قید کر لیا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ رات کو اپنے اونٹ اپنے ڈیروں کے پاس ہی بٹھاتے تھے۔ رات کے کسی حصے میں وہ عورت ایک رات اٹھی، جبکہ لوگوں کو نیند آ چکی تھی، تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلا اٹھتا، یہاں تک کہ عضباء کے پاس آئی۔ اسے ایک سدھائی ہوئی محفوظ اونٹنی ملی تو وہ اس پر سوار ہو گئی، اور اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ عزوجل نے اسے اس پر بچا لیا تو وہ اسے ذبح کر دے گی۔ چنانچہ وہ نجات پا گئی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی کو پہچان لیا گیا، کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ہے، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، اور آپ ﷺ کو اس کی نذر کی خبر دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے کتنا برا بدلہ دیا! اللہ نے اسے اسی پر بچایا اور تم اسے ذبح کر دیتیں؟ گناہ کی نذر پوری نہیں کی جاتی، اور نہ اس چیز کی جس کا ابنِ آدم مالک نہیں۔“