حدیث نمبر: 15460
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الشَّنِّيِّ، ثنا الْحَسَنُ، قَالَ: بَيْنَمَا عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ يُحَدِّثُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ حَدِّثْنَا بِالْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: «أَرَأَيْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، أَكُنْتُمْ مُحَدِّثِي كَمِ الزَّكَاةُ فِي الذَّهَبِ، وَالْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، وَأَصْنَافِ الْمَالِ، وَلَوْ شَهِدْتَ وَغِبْتَ أَنْتُمْ؟» ثُمَّ قَالَ: «فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزَّكَاةِ كَذَا وَكَذَا» فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ أَحْيَيْتَنِي أَحْيَاكَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ: «فَمَا مَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ حَتَّى كَانَ مِنْ فُقَهَاءِ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ

سیدنا حسن بصری کہتے ہیں: ایک بار سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے نبی ﷺ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابونجید! ہمیں قرآن سے حدیث بیان کیجیے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”بتاؤ تو، تم اور تمہارے ساتھی جو قرآن پڑھتے ہو، کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ سونے، اونٹ، گائے اور مال کی اقسام میں زکاۃ کتنی ہے، خواہ تم موجود ہو یا غیر حاضر؟“ پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ میں فلاں فلاں مقدار مقرر فرمائی تھی۔“ اس آدمی نے کہا: اے ابونجید! آپ نے مجھے زندہ کر دیا، اللہ آپ کو زندہ رکھے۔ پھر حسن نے کہا: ”وہ آدمی اس وقت تک نہ مرا جب تک مسلمانوں کے فقہاء میں شمار نہ ہونے لگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15460
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 165، حدیث 369