المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن زربي أبو عبيدة الباجي عن الحسن باب: سعید بن زربی، ابوعبیدہ باجی، کی حسن سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْبَاجِيُّ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيِّ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَحْمِلُهُ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ: «وَاللهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، وَاللهِ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» مَرَّتَيْنِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ أَحْمَالٍ مِنْ غُرِّ الذُّرَى، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، فَلَمَّا مَضَيْنَا بِهِ قُلْتُ لِأَصْحَابِي: مَا أُرَاهُ يُبَارَكُ لَنَا فِيهَا، وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَأَخْبَرْنَاهُ بِيَمِينِهِ، فَقَالَ: «لَمْ أَنْسَ يَمِينِي، وَلَكِنْ إِذَا حَلَفْتُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»ابو عبیدہ باجی، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں مانگنے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم، میں تمہیں سواری نہیں دوں گا، اللہ کی قسم، میرے پاس کچھ نہیں جس پر تمہیں سوار کروں“، دو مرتبہ یہی فرمایا۔ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس عمدہ کوہان والی اونٹنیوں کے تین قافلے آئے، تو آپ ﷺ نے ہماری طرف کسی کو بھیجا اور ہمیں سوار کر دیا۔ جب ہم انہیں لے کر روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرا خیال نہیں کہ اس میں ہمارے لیے برکت ہوگی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سوار نہیں کریں گے، پھر بھی ہمیں سوار کر دیا۔ چنانچہ ہم آپ ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ﷺ کو آپ کی قسم کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی قسم نہیں بھولا، لیکن جب میں کسی بات پر قسم کھا لوں پھر اس سے بہتر کوئی چیز دیکھوں، تو جو بہتر ہو وہی کرتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔“