حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَزْرَقِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ، فَخَرَجْتُ لِطَلَبِهِ بِعَرَفَةَ، «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ» ، فَقُلْتُ: هَذَا مِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ هَهُنَا؟، قَالَ سُفْيَانُ: وَالْأَحْمَسُ الشَّدِيدُ عَلَى دِينِهِ، فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُسَمِّي الْحُمْسَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدِ اسْتَهْوَاهمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ إِنْ عَظَّمْتُمْ غَيْرَ حَرَمِكُمُ اسْتَخَفَّ النَّاسُ بِحَرَمِكُمْ، وَكَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَرَمِ
ترجمہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک اونٹ یومِ عرفہ گم ہو گیا، تو میں اسے تلاش کرنے کے لیے عرفات کی طرف نکلا، ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا“، تو میں نے دل میں کہا: یہ تو حمس میں سے ہیں، یہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
سفیان کہتے ہیں: احمس وہ ہے جو اپنے دین پر سخت ہو، اور قریش کو احمس کہا جاتا تھا، اور شیطان نے انہیں گمراہ کر دیا تھا، اس نے ان سے کہا تھا: اگر تم اپنے حرم کے سوا کسی اور جگہ کی تعظیم کرو گے تو لوگ تمہارے حرم کو ہلکا سمجھیں گے، چنانچہ وہ حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1543
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 131، حدیث 1556