حدیث نمبر: 1538
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ، مِنْ حُنَيْنٍ، عَلِقَهُ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَوَقَفَ، فَقَالَ: «رُدُّوا عَلِيَّ رِدَائِي، أَتَخْشَوْنَ عَلِيَّ الْبُخْلَ، فَوَاللهِ لَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَّمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا جَبَانًا، وَلَا كَذَّابًا»
ترجمہ

… اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگ حنین سے واپسی پر تھے، بدوی لوگ آپ ﷺ سے کچھ مانگتے ہوئے آپ ﷺ سے چمٹ گئے، انہوں نے آپ ﷺ کو مجبور کر کے ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل دیا، تو اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچ لی، جبکہ آپ ﷺ اپنی سواری پر تھے، آپ ﷺ رک گئے اور فرمایا: ”میری چادر مجھے واپس دو، کیا تمہیں مجھ پر بخل کا خدشہ ہے؟ اللہ کی قسم، اگر ان ببول کے کانٹے دار درختوں کی تعداد کے برابر مویشی ہوتے تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دیتا، پھر تم مجھے بخیل، بزدل، اور جھوٹا نہیں پاؤ گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1538
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 130، حدیث 1551