المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عوف عن أبي رجاء باب: عوف کی ابورجاء سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسِرْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ، وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حُرُّ الشَّمْسِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ اسْتَيْقَظَ بِلَالٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، وَفُلَانٌ، وَسَمَّاهُمْ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَا يُوقِظُهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْتَيْقِظُ لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْتِهِ فَشَكَا إِلَيْهِ الْقَوْمُ مَا أَصَابَهُمْ، قَالَ: «لَا ضَيْرَ ارْتَحِلُوا» ، فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نُودِي بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَانْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَإِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ» ، ثُمَّ سَارَ فَاشْتَكَى النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - قَدْ سَمَّاهُ أَبُو رَجَاءٍ - فَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ لَهُمَا: «اذْهَبَا فَابْغِيَا الْمَاءَ» ، فَانْطَلَقَا فَيَسْتَقْبِلانِ امْرَأَةً بَيْنَ سَطِيحَتَيْنِ أَوْ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَانْطَلَقَا فَقَالَا لَهَا: الْمَاءُ، فَقَالَتْ: عَهْدِي بِهِ أَمْسُ هَذِهِ السَّاعَةَ، فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ؟ قَالَا: " هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا مِنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَجَعَلَ فِيهِ أَفْوَاهَ السَّطِيحَتَيْنِ أَوِ الْمَزَادَتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ فَأَعَادَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ السَّطِيحَتَيْنِ أَوِ الْمَزَادَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْثَقَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْقُوا، وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، فَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَاهُ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ، وَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ» وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، وَايْمُ اللهِ لَقَدْ أَرْكَبَهَا حِينَ أَبْلَغَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهُمَا أَشَدُّ مِنْهُمَا مَلْأً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا مَا بَيْنَ عَجْوَةٍ وَسَوِيقَةٍ وَدَقِيقَةٍ» حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوهَا بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ وَاللهِ مَا رَزَأْنَاكِ فِي مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ هُوَ سَقَانَا» فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا فُلَانَةُ مَا حَبَسَكِ؟ فَقَالَتِ: الْعَجَبُ لَقِيَنِي رَجُلَانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ، فَفَعَلَ كَذَا وَكَذَا الَّذِي كَانَ، فَوَاللهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مِنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُغِيْرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَةَ الَّتِي تَلِيهَا، فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: وَاللهِ مَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدْعُونَنَا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَطَاوَعُوهَا، فَجَاءَ وَقَدْ دَخَلُوا جَمِيعًا فِي الْإِسْلَامِ ،سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم ایک رات چلے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ صبح سے کچھ پہلے آیا تو ہمیں وہ نیند آ گئی جس سے زیادہ میٹھی کوئی نیند مسافر کے نزدیک نہیں ہوتی، تو ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کسی چیز نے بیدار نہ کیا۔ سب سے پہلے بلال رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، پھر فلاں اور فلاں - راوی نے ان کے نام لیے - پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ جب آپ ﷺ سو جاتے تو آپ ﷺ کو کوئی نہ جگاتا یہاں تک کہ آپ ﷺ خود بیدار ہو جاتے، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کی نیند میں آپ ﷺ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ جب عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا کہ لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اور وہ ایک دلیر آدمی تھے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہتے رہے، وہ برابر تکبیر کہتے اور آواز بلند کرتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان کی آواز سے بیدار ہو گئے، لوگوں نے آپ ﷺ سے اپنی جو حالت ہوئی تھی اس کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوچ کرو۔“ چنانچہ آپ ﷺ روانہ ہوئے اور تھوڑی دور چلے، پھر اترے، وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر نماز کے لیے آواز دی گئی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب اپنی نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو دیکھا ایک آدمی الگ کھڑا ہے، لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے غسل کی حاجت لاحق ہے اور پانی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مٹی سے تیمم کرو، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔“ پھر آپ ﷺ روانہ ہوئے تو لوگوں نے پیاس کی شکایت کی، آپ ﷺ اترے اور فلاں کو بلایا - ابورجاء نے اس کا نام لیا تھا - اور علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا، ان دونوں سے فرمایا: ”جاؤ اور پانی تلاش کرو۔“ وہ دونوں روانہ ہوئے تو انہیں ایک عورت ملی جو اپنے اونٹ پر پانی کی دو مشکوں - یا دو پکھالوں - کے درمیان بیٹھی تھی، وہ اس کے پاس گئے اور اس سے کہا: پانی (کہاں ہے)؟ اس نے کہا: میں کل اسی وقت پانی پر تھی۔ انہوں نے کہا: تو پھر چلو۔ اس نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے پاس۔ اس نے کہا: یہ وہی ہے جسے 'صابی' کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: تمہاری مراد وہی ہے، چلو۔ چنانچہ وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے اور آپ ﷺ کو ساری بات بتائی، تو لوگوں نے اسے اس کے اونٹ سے اتارا، رسول اللہ ﷺ نے ایک برتن منگوایا اور اس میں دونوں مشکوں - یا دونوں پکھالوں - کے منہ ڈال دیے، پھر کلی کی اور اسے برتن میں لوٹا دیا، پھر اسے دونوں مشکوں کے منہ میں ڈال دیا، پھر ان کے منہ مضبوطی سے باندھ دیے اور ان کے نچلے دہانے کھول دیے، اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ پانی پیو اور بھر لو، تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پانی بھر لیا، اور آخر میں آپ ﷺ نے اس آدمی کو (پانی) دیا جسے غسل کی حاجت تھی، اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، اور اللہ کی قسم، جب یہ مکمل ہوا تو ہمیں لگتا تھا کہ وہ مشکیں پہلے سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور، ستو اور آٹے میں سے جو کچھ ہو جمع کرو“، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے لیے ایک کپڑے میں کھانا جمع کر دیا، اور اسے اس کے اونٹ پر سوار کیا اور وہ کھانا اس کے سامنے رکھ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے، اللہ کی قسم، ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی، بلکہ اللہ ہی نے ہمیں پلایا۔“ چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ ان کے پاس پہنچنے میں دیر کر چکی تھی، انہوں نے کہا: اے فلانی! تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ اس نے کہا: عجیب بات ہے، مجھے دو آدمی ملے، وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جسے 'صابی' کہا جاتا ہے، اس نے ایسا ایسا کیا جو ہوا، اللہ کی قسم، وہ یا تو اس کے اور اس کے درمیان (یعنی آسمان و زمین کے درمیان) سب سے بڑا جادوگر ہے، یا واقعی اللہ کا سچا رسول ہے۔ چنانچہ مسلمان اس کے ارد گرد کے مشرکوں پر چھاپے مارتے رہے اور اس کے قریبی گروہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے تھے، تو اس نے ایک دن اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم، میں نہیں سمجھتی کہ یہ لوگ ہمیں (بلاوجہ) چھوڑ رہے ہیں، کیا تمہیں اسلام میں دلچسپی ہے؟ تو ان لوگوں نے اس کی بات مان لی، اور وہ آئے تو دیکھا سب لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔