المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نسبته باب: سیدنا عقبہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا نسب
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا
أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " وَلَمَّا فَرَغَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الْيَمَامَةِ بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِي اللهُ عَنْهُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَانَ الْعَلَاءُ هُوَ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى الْعَبْدِيِّ فَأَسْلَمَ الْمُنْذِرُ وَأَقَامَ الْعَلَاءُ بِهَا أَمِيرًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَارْتَدَّتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ فِيمَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا الْجَارُودَ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ ثَبَتَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ وَاجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ وَارْتَدَّتْ وَقَالُوا: نَرُدُّ الْمُلْكَ فِي آلِ الْمُنْذِرِ فَكَلَّمُوا الْمُنْذِرَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ وَكَانَ يُسَمَّى الْعَرُورُ وَكَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَعَلَيْهِمُ السَّيْفُ: لَسْتُ بِالْعَرُورِ وَلَكِنِّي الْمَغْرُورُ فَلَمَّا اجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ سَارَ إِلَيْهِمُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ وَأَمَدَّهُ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِّ وَكَانَ قَدْ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا أُمِرَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ سَارَ مَعَهُ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ حَتَّى خَاضَ إِلَى رَبِيعَةَ الْبَحْرِ فَسَارَتْ رَبِيعَةُ إِلَيْهِمْ فَحَصَرُوهُمْ وَهُمْ بِجوَاثَا حِصْنٌ بِالْبَحْرَيْنِ حَتَّى كَادَ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَهْلَكُوا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَدَقٍ الْعَامِرِيُّ فِي ذَلِكَ حِينَ أَصَابَهُمْ مَا أَصَابَهُمْ:
[البحر الوافر]
أَلَا أَبْلِغْ أَبَا بَكْرٍ رَسُولًا ... وَفِتْيَانَ الْمَدِينَةِ أَجْمَعِينَا
فَهَلْ لَكَ فِي شَبَابٍ مِنْكَ أَمْسَوْا ... جَمِيعًا فِي جِوَاثَا مُحْضَرِينَا
تَوَكَّلْنَا عَلَى الرَّحْمَنِ إِنَّا ... وَجَدْنَا النَّصْرَ لِلْمُتَوَكِّلِينَا
فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَدَقٍ: دَعُونِي أَهْبِطُ مِنَ الْحِصْنِ، وَأَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ وَكَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَدَقٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عَجِلٍ فَنَزَلَ مِنَ الْحِصْنِ فَأَخَذُوهُ فَقَالُوا: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ وَجَعَلَ يُنَادِي: يَا أَبْجَرَاهُ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ، فَجَاءَ أَبْجَرُ فَعَرَفَهُ فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ هَلَكَتُ مِنَ الْجُوعِ فَأَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ وَقَالَ: احْمِلْنِي وَخَلِّ سَبِيلِي، فَانْطَلَقَ فَحَمَلَهُ عَلَى بَغْلٍ وَقَالَ: انْطَلَقْ لِشَأْنِكَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَدَقٍ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْقَوْمَ سُكَارَى لَا غَنَاءَ عِنْدَهُمْ، فَبَيَّتَهُمُ الْعَلَاءُ فِيمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ فَقَتَلُوهُمْ قَتْلًا شَدِيدًا وَانْهَزَمُوا "محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے فارغ ہوئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا، اور علاء ہی وہ شخص تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے منذر بن ساویٰ عبدی کی طرف بھیجا تھا، تو منذر اسلام لے آئے، اور علاء رضی اللہ عنہ وہاں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے امیر بن کر رہے، اور بحرین میں قبیلہ ربیعہ نے، ان عربوں میں شامل ہو کر جو مرتد ہو گئے تھے، ارتداد اختیار کر لیا، سوائے جارود بن عمرو کے، جو اسلام پر ثابت قدم رہے، اور ان کی قوم میں سے جو ان کے پیروکار تھے وہ بھی۔ اور بحرین میں ربیعہ جمع ہو کر مرتد ہو گئی اور کہنے لگی: ہم بادشاہت آل منذر میں واپس لے آئیں گے، چنانچہ انہوں نے منذر بن نعمان بن منذر سے بات کی، جسے 'عرور' کہا جاتا تھا، اور وہ بعد میں، جب وہ اور لوگ اسلام لے آئے اور ان پر تلوار (جہاد) کا حکم چل چکا تھا، کہا کرتے تھے: میں عرور نہیں ہوں، بلکہ مغرور (دھوکہ کھایا ہوا) ہوں۔ جب ربیعہ بحرین میں جمع ہو گئی تو علاء بن حضرمی ان کی طرف روانہ ہوئے، اور انہیں ثمامہ بن اثال حنفی رضی اللہ عنہ کی مدد سے تقویت دی، جو اسلام لا چکے تھے اور ان کی قوم بھی اسلام لا چکی تھی، پس جب علاء بن حضرمی کو ثمامہ بن اثال کی مدد ملی تو وہ ان کے ساتھ بنو سحیم میں سے جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ سمندر میں سے ہوتے ہوئے ربیعہ کی طرف بڑھے، تو ربیعہ ان کی طرف بڑھی اور انہیں گھیر لیا جبکہ وہ 'جواثا' نامی قلعے میں تھے، جو بحرین میں ایک قلعہ ہے، یہاں تک کہ مسلمان تکلیف کی وجہ سے ہلاک ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ اس موقع پر عبداللہ بن حدق عامری نے یہ اشعار کہے جب انہیں جو تکلیف پہنچی وہ پہنچی: ”آگاہ کرو ابوبکر کو ایک پیغام کے ذریعے … اور مدینہ کے تمام نوجوانوں کو، کیا تمہیں اپنے ان نوجوانوں کی فکر ہے جو … سب کے سب جواثا میں محصور ہو چکے، ہم نے رحمان پر بھروسہ کیا، بے شک … ہم نے بھروسہ کرنے والوں کے لیے نصرت پائی۔“ پھر عبداللہ بن حدق نے کہا: مجھے قلعے سے اترنے دو، میں تمہارے پاس خبر لے کر آتا ہوں۔ عبداللہ بن حدق کے ساتھ بنو عجل کی ایک عورت بھی تھی، وہ قلعے سے اترے تو دشمن نے انہیں پکڑ لیا اور پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ تو انہوں نے اپنا نسب بتایا اور پکارنے لگے: اے ابجر! اور ابجر ان کے دشمنوں میں سے تھا، تو ابجر آیا اور انہیں پہچان لیا، پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: میں بھوک سے ہلاک ہوا جا رہا ہوں، تو اس نے انہیں کھانا اور پانی دیا اور کہا: مجھے سواری دو اور میرا راستہ چھوڑ دو، چنانچہ اس نے چل کر انہیں خچر پر سوار کیا اور کہا: اپنے کام پر چلے جاؤ۔ جب عبداللہ بن حدق ان کے پاس سے نکلے تو اپنے ساتھیوں کے پاس واپس لوٹے، اور انہیں بتایا کہ دشمن قوم نشے میں ہے اور ان میں کوئی طاقت باقی نہیں، تو علاء رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود عرب و عجم مسلمانوں کے ساتھ رات کو ان پر شب خون مارا، اور انہیں بری طرح قتل کیا اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے۔