حدیث نمبر: 15241
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِبَاءٍ لَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَدْخُلُ؟ قَالَ: «ادْخُلْ» فَقُلْتُ: كُلِّي؟ فَقَالَ: «كُلُّكَ» قَالَ: «أَمْسِكْ سِتًّا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، أَوَّلُهُنَّ وَفَاةُ نَبِيِّكُمْ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ كُلَّ بَيْتٍ شعْرٍ وَمَدَرٍ، وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا، وَمُوتَانٌ يَكُونُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کے ایک خیمے میں آیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اندر آ جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: پورا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پورے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ چیزیں یاد رکھو، پہلی: تمہارے نبی کی وفات۔“ تو میں رونے لگا، ”پھر بیت المقدس کی فتح، اور ایک فتنہ جو ہر خیمے اور مکان میں داخل ہو گا، اور تم میں اتنا مال پھیل جائے گا کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراض ہو جائے گا، اور لوگوں میں ایک وبا ہو گی جیسے بکریوں کی وبا، اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے اور اسّی جھنڈوں کے ساتھ تمہاری طرف بڑھیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15241
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 80، حدیث 150