المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو المليح بن أسامة الهذلي، عن عوف بن مالك باب: ابوملیح بن اسامہ ہذلی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ وانْتَبَهْتُ بَعْضَ اللَّيْلِ، فَإِذَا نَاقَةٌ لِلنَّبِيِّ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَا: مَا نَدْرِي غَيْرَ أَنَّا قَدْ سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ: مِثْلَ هَزِيرِ الرَّحَى، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نُنَاشِدُكَ اللهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ الشَّفَاعَةِ قَالَ: " إِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي، فَانْطَلَقْنَا مَعًا نَسْتَبِقُ إِلَى النَّاسِ فَإِذَا النَّاسُ قَدْ فَزِعُوا وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَالشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ، نَنْشُدُكَ اللهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَلَمَّا أَضَبُّوا، قَالَ: «أُشْهِدُكُمْ أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا»راوی (پوچھتے ہیں): آپ ﷺ کہاں ہیں؟ ان دونوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں، سوائے اس کے کہ ہم نے وادی کی بلندی سے چکی کی آواز جیسی ایک آواز سنی تھی، تھوڑی ہی دیر میں نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت مل جائے، تو میں نے شفاعت کو چنا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم آپ کو اللہ اور اپنی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں شفاعت والوں میں سے بنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میری شفاعت کے اہل میں سے ہو۔“ پھر ہم دونوں دوڑتے ہوئے لوگوں کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا لوگ گھبرائے ہوئے ہیں اور اپنے نبی کو تلاش کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو، اور شفاعت، تو میں نے شفاعت کو چنا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم آپ کو اللہ اور اپنی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی شفاعت والوں میں سے بنا دیں، جب وہ اصرار کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت میں سے اس کے لیے ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“