❮
❯
حدیث نمبر: 15224
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْن الْوَاسِطِيُّ، أنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَانْتَبَهْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِهِ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الصُّخُورَ، وَإِذَا الْإِبِلُ قَدْ وَضَعَتْ صَرَاتَهَا، وَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ قَدْ تَصَدَّى لِي، وَتَصَدَّأْتُ لَهُ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقُلْتُ: أَيْنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَرَائِي، فَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ قَدْ تَصَدَّى إِلَيَّ وَتَصَدَّأْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: فَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ خَلْفَ أَبِي مُوسَى هَزِيرًا كَهَزِيرِ الرَّحَى فَقُلْتُ: أَيْنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَرَائِي قَدْ أَقْبَلَ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّبِيَّ إِذَا كَانَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ كَانَ عَلَيْهِ حَرَسٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» قَالَ مُعَاذٌ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَدْ عَرَفْتَ قَرَابَتِي وَمَنْزِلَتِي فَاجْعَلْنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ» فَقَالَ عَوْفٌ وَأَبُو مُوسَى: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ عَرَفْتَ إِنَّا تَرَكْنَا أَهْلِنَا نُؤْثِرُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ، قَالَ: «هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَنْتُمَا مِنْهُمْ» فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ حِينَ نَادُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْعُدُوا» فَقَعَدُوا كَأَنَّ أَحَدًا لَمْ يَقُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ شِطْرُ أُمَّتِي وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللهِ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْصِتُوا» فَأَنْصَتُوا كَأَنَّ أَحَدًا لَمْ يَتَكَلَّمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے بعض غزوات میں تھے، ایک رات میری آنکھ کھلی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کی جگہ پر نہ پایا، اور آپ ﷺ کے صحابہ ایسے (بےسدھ) تھے گویا ان کے سروں پر پتھر رکھے ہوں، اور اونٹ اپنی گردنیں (زمین پر) رکھے ہوئے تھے۔ اچانک مجھے ایک سایہ نظر آیا جو میری طرف بڑھا اور میں اس کی طرف بڑھا، تو دیکھا کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے۔ پھر مجھے ایک اور سایہ نظر آیا جو میری طرف بڑھا اور میں اس کی طرف بڑھا، تو دیکھا کہ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر مجھے حمید بن ہلال نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ کے واسطے سے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے ابوموسیٰ کے پیچھے چکی کی گڑگڑاہٹ جیسی آواز سنی، میں نے پوچھا: نبی کریم ﷺ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے، وہ آ رہے ہیں، تو دیکھا رسول اللہ ﷺ وہاں موجود ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، نبی جب دشمن کی سرزمین میں ہو تو اس کے پاس پہرہ دار ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب عزوجل کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت مل جائے، تو میں نے شفاعت کو چنا۔“ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ میری قرابت اور منزلت جانتے ہیں، مجھے بھی انہی میں سے بنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ تو عوف اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے گھر والوں کو چھوڑا، ہمیں بھی انہی میں سے بنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہر مسلمان کے لیے ہے، تم دونوں بھی انہی میں سے ہو۔“ پھر ہم لوگوں کے پاس پہنچے جب وہ پکار رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گئے گویا کوئی کھڑا ہی نہیں ہوا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت مل جائے، تو میں نے شفاعت کو چنا۔“ تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، ہمیں بھی انہی میں سے بنا دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خاموش ہو جاؤ۔“ وہ خاموش ہو گئے گویا کسی نے کوئی بات ہی نہیں کی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری شفاعت اس کے لیے ہے جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15224
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 72، حدیث 133