❮
❯
حدیث نمبر: 15175
ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ وَأَنَّ مَدَدِيًّا كَانَ رَفِيقًا لَهُ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ فِي طَرَفِ الشَّامِ، فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَجَعَلَ الرُّومِيُّ مِنْهُمْ يَشْتَدُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ، وَسَرْجٍ مُذْهَبٍ، وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ بِذَهَبٍ، وَسَيْفٍ مُحَلًّى مِنْ ذَهَبٍ، فَيُغْزِي بِهِمْ، فَيَلْطُفُ لَهُ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ حَتَّى مَرَّ بِهِ فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ، فَوَقَعَ ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَلَمَّا هَزَمَ اللهُ الرُّومَ قَامَتِ الْبَيِّنَةُ لِلْمَدَدِيِّ إِنَّهُ قَتَلَهُ، فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ سَيْفَهُ وَخُمْسَ مَالِهِ، قَالَ عَوْفٌ: فَكَلَّمَتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْتُ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، قَالَ عَوْفٌ: وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَكَ، قَالَ عَوْفٌ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ عَوْفٌ مَا كَانَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ؟» فَقَالَ خَالِدٌ: اسْتَكْثَرْتُهُ، قَالَ: «ادْفَعْهُ إِلَيْهِ» قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ: كَيْفَ رَأَيْتَ يَا خَالِدُ، أَلَمْ أُنْجِزْ لَكَ مَا وَعَدْتُكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِخَالِدٍ: «لَا تُعْطِهِ» وَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ بِتَارِكِي لِي أُمَرَائِي»
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے سامان (سلب) میں سے خمس نہیں نکالا۔ اور یہ کہ ایک مددی (کمک میں آیا ہوا آدمی) غزوہ موتہ میں، جو شام کے کنارے پر ہوا، ان کا ساتھی تھا۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا تو ان میں سے ایک رومی مسلمانوں پر سخت حملے کرنے لگا، وہ ایک سرخ و سنہرے گھوڑے پر سوار تھا، اس کی زین سونے کے کام والی، کمربند سونے سے مزین اور تلوار سونے سے آراستہ تھی، وہ مسلمانوں پر یلغار کرتا تھا۔ وہ مددی چپکے سے اس کی گھات میں رہا یہاں تک کہ وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں، وہ گر پڑا، پھر اس نے اس پر چڑھ کر تلوار سے اسے قتل کر دیا۔ جب اللہ نے رومیوں کو شکست دی تو مددی کے حق میں گواہی قائم ہو گئی کہ اسی نے اسے قتل کیا ہے، تو خالد رضی اللہ عنہ نے اسے اس کی تلوار اور اس کے مال کا پانچواں حصہ دیا۔ عوف کہتے ہیں: میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے بات کی اور کہا: کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے اسے بہت زیادہ سمجھا۔ عوف کہتے ہیں: میرے اور ان کے درمیان کچھ تکرار ہوئی تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کی یہ بات ضرور بتاؤں گا۔ عوف کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس جمع ہوئے تو عوف نے جو کچھ ہوا تھا بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اسے دینے سے کس چیز نے روکا؟“ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بہت زیادہ لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ عوف کہتے ہیں: تو میں نے کہا: اے خالد! تم نے دیکھا، کیا میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آ گیا اور خالد سے فرمایا: ”اسے مت دو۔“ اور فرمایا: ”کیا تم میرے امیروں کو میری خاطر نہیں چھوڑو گے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15175
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 47، حدیث 84