حدیث نمبر: 15174
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ يَوْمَ عِيدِهِمْ، فَكَرِهُوا دُخُولَهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَرُونِيَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْكُمْ يَشْهَدُونَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَحُطُّ اللهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيِّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي عَلَيْهِ» ، فَأَسْكَتُوا مَا أَجَابَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: «أَبَيْتُمْ، فَوَاللهِ لَأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا الْمُقَفِّي، آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ» ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى أَنَّنَا كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَقَالَ: كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدٌ، فَأَقْبَلَ، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونَ فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: وَاللهِ مَا نَعْلَمُ فِينَا رَجُلًا كَانَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ وَلَا أَفْقَهُ مِنْكَ، وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ، وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللهِ الَّذِي تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ، قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رُدُّوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا فِيهِ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبْتُمْ لَنْ نَقْبَلَ قَوْلَكُمْ» قَالَ: فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَابْنُ سَلَامٍ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [الأحقاف: ١٠]
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم ﷺ نکلے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم یہودیوں کے عبادت خانے میں ان کی عید کے دن داخل ہوئے، انہیں آپ ﷺ کا اندر آنا ناگوار گزرا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے یہود کی جماعت! مجھے اپنے میں سے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو اللہ ہر اس یہودی سے، جو آسمان کے نیچے ہے، وہ غضب دور کر دے گا جو اس پر ہے۔“ وہ خاموش ہو گئے، کسی نے جواب نہ دیا، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا تو بھی کسی نے جواب نہ دیا، پھر تیسری بار فرمایا تو بھی کسی نے جواب نہ دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انکار کر دیا، اللہ کی قسم! میں ہی حاشر ہوں، میں ہی عاقب ہوں، میں ہی مقفی ہوں، تم مانو یا جھٹلاؤ۔“ پھر آپ ﷺ واپس لوٹے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم نکلنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی نے پیچھے سے آواز دی: اے محمد! ذرا ٹھہریے۔ آپ ﷺ متوجہ ہوئے، تو اس آدمی نے کہا: اے یہود کی جماعت! تم اپنے میں کس آدمی کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، ہم اپنے میں کسی کو اللہ کی کتاب کا اس سے زیادہ عالم اور سمجھدار نہیں جانتے، نہ اس سے پہلے اس کے باپ کو، نہ اس کے باپ سے پہلے اس کے دادا کو۔ اس نے کہا: تو میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی اللہ کا نبی ہے جسے تم تورات میں پاتے ہو۔ وہ کہنے لگے: تم نے جھوٹ کہا، پھر اس پر رد کیا اور اس کے بارے میں بری باتیں کیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ کہا، ہم تمہاری بات ہرگز قبول نہیں کریں گے۔“ پھر ہم تین آدمی نکلے: رسول اللہ ﷺ، میں اور ابن سلام رضی اللہ عنہ، اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”آپ کہہ دیجیے: بھلا بتاؤ تو اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اسی جیسی چیز کی گواہی دے کر ایمان لا چکا ہو اور تم نے تکبر کیا ہو، تو یقیناً اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔“ [الاحقاف: 10]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15174
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 46، حدیث 83