المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جبير بن نفير الحضرمي، عن عوف بن مالك باب: جبیر بن نفیر حضرمی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمًا، فَقَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُرْفَعُ الْعِلْمُ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أَتَيْتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ» ، ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ، فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ يُرْفَعُ؟ قَالَ: «الْخُشُوعُ، لَا تَرَى خَاشِعًا»سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ وہ وقت ہے جب علم اٹھا لیا جائے گا۔“ تو انصار میں سے ایک آدمی، جسے زیاد بن لبید کہا جاتا تھا، نے عرض کیا: یا رسول اللہ، علم کیسے اٹھایا جائے گا جبکہ آپ نے یہ پہنچا دیا اور دلوں نے اسے یاد کر لیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو تمہیں مدینہ والوں میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ کی گمراہی کا ذکر فرمایا باوجود اس کے کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے۔ پھر میں شداد بن اوس سے ملا اور انہیں عوف کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: عوف نے سچ کہا، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب سے پہلے کیا چیز اٹھائی جائے گی؟ فرمایا: ”خشوع، تم کسی کو خشوع کرتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔“