المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جبير بن نفير الحضرمي، عن عوف بن مالك باب: جبیر بن نفیر حضرمی کی سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ الْقُرَشِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ فَرْقَدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ لَهُ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قُلْتُ: أَدْخُلُ؟ قَالَ: «ادْخُلْ» فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِينًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَدْخُلُ كُلِّي؟ قَالَ: «كُلُّكَ» فَلَمَّا جَلَسْتُ قَالَ لِي: «اعْدُدْ سِتَّ خِصَالٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَوْتُ نَبِيِّكُمْ» قَالَ عَوْفٌ: فَوَجَمْتُ لِذَلِكَ وَجْمَةً مَا وَجَمْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ: «قُلْ إِحْدَى» قُلْتُ: إِحْدَى قَالَ: «وَفَتَحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَفِتْنَةٌ تَكُونُ فِيهَا مُوتَانُ الْعَرَبِ وَهُوَ دَاءٌ يَأْخُذْكُمْ كَعُقَاصِ الْغَنَمِ، وَيَفْشُو الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلَّ سَاخِطًا، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا»سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، میں نے سلام کیا اور عرض کیا: کیا میں اندر آ جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آ جاؤ۔“ میں نے اپنا سر اندر کیا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ مکمل وضو کر رہے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، پورا اندر آ جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پورے آ جاؤ۔“ جب میں بیٹھ گیا تو مجھ سے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کرو، تمہارے نبی کی موت۔“ عوف کہتے ہیں: مجھے اس سے اتنا رنج ہوا جیسا کبھی نہ ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو، ایک۔“ میں نے کہا: ایک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بیت المقدس کی فتح، اور ایک فتنہ جس میں عرب میں وبا پھیلے گی، یہ ایک بیماری ہو گی جو تمہیں بکریوں کے مرض کی طرح پکڑے گی، اور تم میں مال اتنا پھیل جائے گا کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراض ہو گا، اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ عہد شکنی کریں گے اور اسّی جھنڈوں تلے تمہارے پاس آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار ہوں گے۔“