❮
❯
حدیث نمبر: 15134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ، فَبَعَثَتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي تُصَلِّي فِي مَنْزِلِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ وَيُذَاكِرُونَ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عِظَمَ ذَلِكَ وَكِبَرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ الدُّخْشُمِ وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، وَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالُوا: أَنَّهُ يَقُولُ ذَاكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: «لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ أَوْ يَطْعَمُهُ النَّارُ»
ترجمہ

سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہیں: میری بینائی میں کچھ خرابی واقع ہو گئی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ میں چاہتا ہوں آپ ﷺ میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھیں تاکہ میں اسے جائے نماز بنا لوں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ، جنہیں اللہ نے چاہا، میرے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ میرے گھر میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے، جبکہ آپ ﷺ کے صحابہ آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کا ذکر کرنے لگے، پھر انہوں نے اس بڑے معاملے کو مالک بن دخشم کی طرف منسوب کیا، وہ چاہتے تھے کہ آپ ﷺ اس کے خلاف بددعا فرمائیں تاکہ وہ ہلاک ہو جائے، وہ چاہتے تھے کہ اسے کوئی نقصان پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کی اور فرمایا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ لوگوں نے کہا: وہ زبان سے یہ کہتا ہے مگر یہ اس کے دل میں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا اور نہ آگ اسے کھائے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15134
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 25، حدیث 43