المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
القاسم أبو عبد الرحمن، عن عقبة بن عامر باب: قاسم ابوعبدالرحمن کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى ظَلَّلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَصْحَابِي تَرْعَى إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقُ فَنَقْتَبِسَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رُحْنَا اقْتَبَسْنَاكَ مِمَّا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ أَيَّامًا، ثُمَّ إِنِّي فَكَّرْتُ فِي نَفْسِي فَقُلْتُ: لَعَلِّي مَغْبُونٌ يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا لَمْ أَتَعَلَّمْ مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَضَرَتُ يَوْمًا فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاتِهِ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بارہ سواروں کے ساتھ آیا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹھہر گئے۔ میرے ساتھیوں نے کہا: تم ہمارے اونٹ چرایا کرو اور ہم جا کر رسول اللہ ﷺ سے علم حاصل کریں گے، پھر جب ہم شام کو لوٹیں گے تو جو کچھ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو گا وہ تمہیں بتا دیا کریں گے۔ میں کچھ دن ایسا ہی کرتا رہا، پھر میں نے اپنے دل میں سوچا: شاید میں خسارے میں ہوں، میرے ساتھی وہ باتیں سنتے ہیں جو میں نہیں سنتا اور نبی اللہ ﷺ سے وہ کچھ سیکھتے ہیں جو میں نہیں سیکھتا۔ چنانچہ ایک دن میں حاضر ہوا تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مکمل وضو کیا، پھر اپنی نماز کے لیے کھڑا ہوا، وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“