المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الملك بن عمير، عن ربعي باب: عبدالملک بن عمیر کی ربعی سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ: أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ نَارًا وَمَاءً، فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا نَارٌ فَمَاءٌ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا مَاءٌ فَنَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ بَارِدٌ» وَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ نَفْسَهُ فَقِيلَ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِيلَ انْظُرْ، قَالَ: مَا أعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا فَأُجَازِفُهُمْ، فَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُوسِرِ، فَأَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ " وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا كَثِيرًا حَوْلًا، ثُمَّ انْظُرُوا يَوْمًا رَائِحًا فَذَرُونِي فِي الْيَمِّ، فَفَعَلُوا، فَجَمَعَهُ اللهُ فَقَالَ: لَمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، فَغَفَرَ اللهُ لَهُ ". قَالَ عُقْبَةُ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَكَانَ. . .سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ہمیں وہ حدیث بیان نہیں کریں گے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوں گے، جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ حقیقت میں پانی ہوگا، اور جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ آگ ہوگی، پس تم میں سے جو کوئی یہ زمانہ پائے وہ اس چیز میں جا گرے جسے وہ آگ سمجھتا ہے، کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا۔“ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اس کے پاس فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے آیا، اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ کہا گیا: غور کرو۔ اس نے کہا: مجھے اس کے سوا کچھ معلوم نہیں کہ میں دنیا میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور نرمی برتتا تھا، تنگ دست کو مہلت دیتا تھا اور خوش حال کو معاف کر دیتا تھا، چنانچہ اللہ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔“ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”ایک آدمی کی موت کا وقت آیا، جب وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرنا، پھر کسی تیز ہوا والے دن دیکھ کر مجھے سمندر میں بکھیر دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ نے اسے جمع کر لیا اور فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف سے۔ چنانچہ اللہ نے اسے بخش دیا۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہ حدیث آپ ﷺ سے سنی ہے، اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ)...