المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي حازم، عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه باب: قیس بن ابی حازم کی سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14628
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنِّي أُصَلِّي خَلْفَ فُلَانٍ، وإنَّهُ يُطِيلُ الصَّلَاةَ فَرُبَّمَا تَأَخَّرْتُ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ فَقَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ بِهِمُ الصَّلَاةَ؛ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ»ترجمہ
ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں شخص کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں، اور وہ نماز لمبی پڑھاتا ہے، اس لیے بسا اوقات میں پیچھے رہ جاتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ اتنے غصے میں آئے کہ میں نے آپ ﷺ کو کسی نصیحت میں اتنا غصہ کرتے نہیں دیکھا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کچھ لوگ متنفر کرنے والے ہیں، جو لوگوں کی امامت کرے وہ نماز مختصر پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھا اور حاجت مند بھی ہوتا ہے۔“