المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي حازم، عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه باب: قیس بن ابی حازم کی سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14627
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَشْهَدُ الصَّلَاةَ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلَانٌ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ بِهِمْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ»ترجمہ
ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے کہا: میں نماز باجماعت میں شریک نہیں ہو پاتا کیونکہ فلاں شخص ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی نصیحت کے موقع پر اس دن سے زیادہ غصے میں کبھی نہیں دیکھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کی امامت کرے وہ نماز مختصر پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، چھوٹا، بوڑھا اور حاجت مند شخص بھی ہوتا ہے۔“